کوئٹہ کی پٹری پر عوامی سفر کا نیا باب — جناح پیپلز میٹرو ٹرین کا آغاز

کوئٹہ میں جناح پیپلز میٹرو ٹرین کا آغاز، شہری سفر کے نئے دور کا آغاز

کوئٹہ میں شہری آمدورفت کے نظام میں ایک نئے باب کا آغاز ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے بلوچستان کی پہلی جناح پیپلز میٹرو ٹرین سروس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔ یہ سروس کچلاک سے سریاب تک تقریباً 32 کلومیٹر کے روٹ پر چلائی جائے گی۔ 

تقریباً 3 ارب روپے کی لاگت سے ریلوے ٹریک کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا منصوبہ ریکارڈ 120 دن میں مکمل کیا گیا۔ اس روٹ پر سات اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں کچلاک، بلیلی، شیخ مندا، جی او آر ہالٹ، کوئٹہ، لوڑ کاریز ہالٹ اور سریاب شامل ہیں۔ 

جناح پیپلز میٹرو ٹرین کچلاک، سریاب اور ملحقہ علاقوں کے شہریوں کو کوئٹہ شہر تک سفر کے لیے ایک نیا اور نسبتاً کم خرچ ذریعہ فراہم کرے گی۔ اس سروس سے طلبہ، ملازمین، مزدوروں، تاجروں اور دیگر روزانہ سفر کرنے والے شہریوں کو سہولت ملنے کی توقع ہے۔ 

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے افتتاح کے موقع پر سینئر شہریوں اور خصوصی افراد کے لیے مفت سفر کا اعلان کیا، جبکہ دیگر مسافروں کے لیے کرایوں کو قابلِ برداشت اور سبسڈی شدہ رکھنے کی بات کی گئی۔ 

یہ منصوبہ صرف موجودہ روٹ تک محدود نہیں رکھا جائے گا۔ مستقبل میں دو ٹرینیں دونوں سمتوں میں چلانے اور سروس کو بوستان، پشین اور مستونگ تک توسیع دینے کے منصوبے بھی سامنے آئے ہیں۔ 

کوئٹہ میں عوامی سفری سہولیات کے منظرنامے کو دیکھا جائے تو سڑکوں پر گرین بسیں، فضا میں پیپلز ایئر ایمبولینس اور اب پٹری پر جناح پیپلز میٹرو ٹرین نظر آ رہی ہے۔ عوامی انداز میں کہیں تو اگر کوئٹہ میں سمندر ہوتا تو شاید کشتیاں بھی چلا دی جاتیں!

جناح پیپلز میٹرو ٹرین کا آغاز کوئٹہ کے شہری انفراسٹرکچر اور عوامی آمدورفت میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔ اب اس منصوبے کی اصل کامیابی اس بات سے جڑی ہوگی کہ یہ سروس کتنی باقاعدگی، سہولت اور کم لاگت کے ساتھ عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں عملی آسانی پیدا کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *