بلوچستان میں صحافت کا دوسرا رخ: صحافیوں کے لیے کیا بدل رہا ہے؟

بلوچستان میں صحافت یقیناً آسان پیشہ نہیں۔ صوبے کے صحافی طویل عرصے سے سیکیورٹی، معاشی مشکلات، محدود وسائل اور مختلف دباؤ کا سامنا کرتے آئے ہیں۔ روزنامہ جنگ کے مضمون “بلوچستان: صحافت اور صحافی” میں بھی ان مشکلات اور صحافت کی آزادی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ صحافیوں کو محفوظ اور آزاد ماحول ملنا چاہیے، لیکن بلوچستان کی صحافت پر گفتگو صرف مشکلات تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ صوبائی حکومت نے صحافیوں کی فلاح، صحت، رہائش اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔

صحافیوں کے ویلفیئر فنڈ میں اضافہ

موجودہ حکومت نے صحافیوں کے ویلفیئر فنڈ کو 230 ملین روپے سے بڑھا کر 500 ملین روپے کیا ہے۔ یہ صحافی برادری کے معاشی تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

ورکنگ جرنلسٹس کے لیے ہاؤسنگ اسکیم

صحافیوں کے دیرینہ مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے ورکنگ جرنلسٹس کے لیے ہاؤسنگ اسکیم کی منظوری بھی دی گئی ہے، تاکہ صحافیوں کو باعزت رہائش کی سہولت فراہم کی جا سکے۔

صحت اور مالی معاونت

صحافیوں کے لیے ہیلتھ انشورنس، طبی معاونت اور ایمرجنسی سپورٹ کے اقدامات بھی حکومت کی صحافی دوست پالیسی کا حصہ ہیں۔ مشکل حالات میں فرائض انجام دینے والے صحافیوں کے لیے صحت کا تحفظ انتہائی اہم ہے۔

کوئٹہ پریس کلب کے لیے 20 کروڑ

حکومت نے کوئٹہ پریس کلب کے لیے 200 ملین روپے کی سیڈ منی مختص کی، جبکہ سولرائزیشن اور دیگر سہولیات کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔

جدید صحافت کے لیے تربیت

بدلتے ہوئے میڈیا کے تقاضوں کے پیش نظر صدیق بلوچ میڈیا اکیڈمی کو فعال بنانے اور صحافیوں کو جدید صحافت، تحقیق اور نئی ٹیکنالوجی کی تربیت دینے پر بھی توجہ دی جا رہی ہے۔

ڈیجیٹل میڈیا پالیسی

بلوچستان میں ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کا اجرا بھی اس بات کی علامت ہے کہ حکومت جدید میڈیا کے بدلتے ہوئے کردار کو تسلیم کر رہی ہے۔ آج کا صحافی صرف اخبار یا ٹی وی تک محدود نہیں بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی عوام تک معلومات پہنچا رہا ہے۔

تنقید کا حق، لیکن مکمل تصویر بھی ضروری

حکومت پر تنقید کرنا صحافت کا حق ہے اور اس حق کا احترام ہونا چاہیے۔ تاہم حکومت کے اقدامات کو نظر انداز کرنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔

اگر صحافیوں کے مسائل پر بات ہو رہی ہے تو ساتھ یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ ویلفیئر فنڈ میں اضافہ، ہاؤسنگ اسکیم، صحت کی سہولیات، پریس کلب کے لیے مالی معاونت، میڈیا اکیڈمی اور ڈیجیٹل میڈیا پالیسی جیسے اقدامات بھی اسی حکومت کے دور میں سامنے آئے ہیں۔

بلوچستان کے صحافیوں نے مشکل حالات میں ہمیشہ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آزاد اور ذمہ دار صحافت کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے معاشی، طبی، رہائشی اور پیشہ ورانہ تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔

بلوچستان میں مضبوط صحافت کے لیے صرف آزادی ضروری نہیں، صحافی کا تحفظ اور فلاح بھی اتنی ہی اہم ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *