کبھی بلوچستان کے نوجوانوں کے ہاتھوں میں صرف احتجاج کے نعرے اور محرومیوں کی داستانیں تھیں، مگر آج وہی نوجوان جدید مہارتیں سیکھ کر اپنے مستقبل کو خود سنوارنے کی جانب گامزن ہیں۔ یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی، بلکہ ایک واضح وژن، عملی اقدامات اور میرٹ پر مبنی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی قیادت میں حکومت بلوچستان نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان امپلومنٹ پروگرام کے ذریعے صوبے بھر کے ہزاروں نوجوانوں کو جدید اسکلز، پیشہ ورانہ تربیت اور باعزت روزگار کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔
1، 2 اور 3 اگست 2026 کو منعقد ہونے والے تحریری امتحانات اور انٹرویوز اسی انقلابی سفر کا اہم سنگِ میل ہیں۔ یہ مرحلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اب کامیابی سفارش یا تعلقات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ قابلیت، محنت اور میرٹ کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ یہی وہ سوچ ہے جو بلوچستان میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھ رہی ہے۔
یہ پروگرام صرف ملازمتوں کی فراہمی تک محدود نہیں، بلکہ نوجوانوں میں خود اعتمادی، جدید مہارتوں اور خود انحصاری کے جذبے کو فروغ دینے کا ایک جامع اقدام ہے۔ اس کے ذریعے نوجوان نہ صرف سرکاری و نجی شعبوں میں بہتر مواقع حاصل کر سکیں گے بلکہ کاروبار، فری لانسنگ اور ڈیجیٹل معیشت جیسے نئے شعبوں میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔
بلوچستان کی ترقی کا راستہ اس کے نوجوانوں سے ہو کر گزرتا ہے۔ جب نوجوان تعلیم، مہارت اور روزگار سے آراستہ ہوں گے تو صوبہ معاشی، سماجی اور صنعتی ترقی کی نئی منازل طے کرے گا۔ یہی وہ تبدیلی ہے جو بلوچستان کو ایک مضبوط، خوشحال اور بااختیار مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے۔
زمباد سے اسکلز تک کا یہ سفر آسان نہیں تھا، مگر آج یہ حقیقت بن چکا ہے کہ جب وژن، میرٹ اور عزم یکجا ہو جائیں تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ یہی نیا بلوچستان ہے، جہاں نوجوانوں کو صرف امید نہیں بلکہ آگے بڑھنے کے حقیقی مواقع بھی فراہم کیے جا رہے













Leave a Reply