بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں تعلیم کا فروغ ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔ غیر فعال اسکول، اسکول نہ جانے والے بچوں کی بڑی تعداد اور مختلف اضلاع میں تعلیمی سہولیات کا فرق طویل عرصے سے اہم مسائل رہے ہیں۔ تاہم گزشتہ دو برس کے دوران حکومتِ بلوچستان کی جانب سے تعلیم کے شعبے میں اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی حکومت نے 3,800 سے زائد غیر فعال اسکولوں کو دوبارہ فعال کیا، جبکہ 7 لاکھ 68 ہزار سے زائد آؤٹ آف اسکول بچوں کو تعلیمی نظام کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ یہ اقدامات ہزاروں بچوں کو دوبارہ کلاس روم، اساتذہ اور کتابوں سے جوڑنے کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔
شرحِ خواندگی میں نمایاں بہتری
ان اقدامات کے نتیجے میں بلوچستان کی شرحِ خواندگی 43 فیصد سے بڑھ کر 49 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ بہتری اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیمی اداروں کی بحالی اور بچوں کو اسکولوں تک لانے کے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اسکالرشپس سے تعلیمی خوابوں کی تکمیل
حکومت کی توجہ صرف اسکولوں تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے پر بھی ہے۔ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے ذریعے اسکالرشپس کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ مالی مشکلات کے باعث تعلیم سے محروم رہ جانے والے باصلاحیت طلبہ کو آگے بڑھنے کا موقع مل سکے۔
اسی سلسلے میں شہید بینظیر بھٹو پروگرام کے تحت شہداء کے بچوں کے لیے مکمل تعلیمی معاونت بھی فراہم کی جا رہی ہے، جو ان خاندانوں کے بچوں کے روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
میرٹ اور جدید تعلیم پر توجہ
تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اے آئی سے متعلق نصابی اپ ڈیٹس بھی تعلیمی اصلاحات کا حصہ ہیں۔ اس کا مقصد بلوچستان کے طلبہ کو نہ صرف بنیادی تعلیم بلکہ مستقبل کی جدید مہارتوں سے بھی ہم آہنگ کرنا ہے۔
تعلیم، بلوچستان کے مستقبل کی بنیاد
3,800 سے زائد اسکولوں کی بحالی، 7 لاکھ 68 ہزار سے زائد بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کی کوشش، شرحِ خواندگی میں 43 سے 49 فیصد تک اضافہ، اسکالرشپس میں توسیع، شہداء کے بچوں کے لیے معاونت، میرٹ پر اساتذہ کی بھرتی اور جدید نصابی اصلاحات بلوچستان میں تعلیمی شعبے کی سمت میں ہونے والی اہم پیش رفت ہے۔
اگر یہ سلسلہ اسی تسلسل کے ساتھ جاری رہا تو بلوچستان کے لاکھوں بچوں کے لیے تعلیم کے مزید مواقع پیدا ہوں گے اور صوبہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ اور بااختیار مستقبل کی طرف بڑھ سکے گا۔
تعلیم میں سرمایہ کاری، بلوچستان کے مستقبل میں سرمایہ کاری ہے۔













Leave a Reply