زیارت: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ شہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ وطن کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر جوانوں کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور حکومت ان کے اہل خانہ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔
زیارت میں شہداء کے لواحقین میں معاونتی چیکس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاست اپنے شہداء کی قربانیوں کی قدر کرتی ہے اور ان کے خاندانوں کی کفالت اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ تقریب میں صوبائی وزیر نور محمد دمڑ، انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان محمد طاہر خان، دیگر اعلیٰ حکام، شہداء کے لواحقین اور علاقائی عمائدین نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ نے تقریب سے قبل شہداء کے اہل خانہ سے ملاقات کی، ان سے اظہارِ تعزیت کیا اور یقین دلایا کہ حکومت ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ زیارت ہمیشہ امن اور خوشیوں کی علامت رہی ہے، تاہم حالیہ سانحے نے پورے بلوچستان کو غمزدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے قرآن مجید کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہداء اللہ تعالیٰ کے نزدیک زندہ ہیں، اور یہی عقیدہ ہمیں صبر، حوصلہ اور استقامت کا درس دیتا ہے۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کا نہ اسلام سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی بلوچ یا پشتون روایات سے۔ بے گناہ شہریوں، خواتین، بچوں اور مسافروں کو نشانہ بنانا انسانیت، اسلامی تعلیمات اور مقامی اقدار کے سراسر خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس، فرنٹیئر کور، پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں اور پوری قوم ان کی مقروض ہے۔
وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ دہشت گرد عناصر اور ریاست مخالف پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں، قومی اتحاد کو مضبوط بنائیں اور ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر امن کے دشمنوں کے عزائم ناکام بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ زیارت واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ اگر کسی افسر یا اہلکار کی غفلت یا کوتاہی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور انصاف ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔
شہداء کے خاندانوں کے لیے حکومتی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہر شہید کے خاندان کو ایک کروڑ دس لاکھ روپے مالی معاونت فراہم کی جائے گی، جبکہ تمام فنڈز جاری کیے جا چکے ہیں اور قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد رقوم ورثاء کو منتقل کر دی جائیں گی۔ انہوں نے مزید اعلان کیا کہ شہداء کے بچوں کی 16 سال تک تعلیم کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی، انہیں ملک کے بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، ہر شہید کے خاندان سے ایک فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے گی اور اہل خانہ کو مکمل طبی و انتظامی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ صرف وزیراعلیٰ ہی نہیں بلکہ ایک بلوچ بھائی کی حیثیت سے بھی شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے ہر وقت شہداء کے اہل خانہ کے لیے کھلے ہیں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے بلند درجات، زخمیوں کی جلد صحت یابی، لواحقین کے لیے صبرِ جمیل اور پاکستان کے امن، سلامتی اور ترقی کے لیے خصوصی دعا کی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور شہداء کے خاندانوں کی بھرپور سرپرستی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی













Leave a Reply