حکومتِ بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے سابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج، مستونگ، عبدالحکیم کاکڑ کو باضابطہ طور پر “شہید” قرار دینا اُن کی بے مثال خدمات، فرض شناسی اور عظیم قربانی کا سرکاری اعتراف ہے۔ 23 جولائی 2026 کو مستونگ میں دہشت گردوں کی بزدلانہ فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے عبدالحکیم کاکڑ نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی قانون کی بالادستی، انصاف کی فراہمی اور عوامی خدمت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
عدل و انصاف کے شعبے سے وابستہ افراد معاشرے میں قانون کی حکمرانی قائم رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ شہید عبدالحکیم کاکڑ بھی انہی بااصول شخصیات میں شامل تھے جنہوں نے اپنے فرائض دیانت داری، جرات اور غیر جانبداری کے ساتھ انجام دیے۔ دہشت گردی کا نشانہ بننا اس بات کا ثبوت ہے کہ دشمن عناصر ریاستی اداروں اور قانون کے محافظوں کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، مگر ایسے حملے قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
حکومتِ بلوچستان کی جانب سے انہیں سرکاری طور پر “شہید” کا درجہ دینا نہ صرف ان کی خدمات کا اعتراف ہے بلکہ یہ اس عزم کی بھی علامت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانی دینے والے ہر فرد کو ریاست ہمیشہ عزت، احترام اور یادگار مقام دے گی۔
شہید عبدالحکیم کاکڑ کی قربانی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انصاف، قانون اور ریاستی اداروں کے تحفظ کے لیے دی جانے والی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ قوم اپنے ان بہادر سپوتوں کو ہمیشہ احترام، فخر اور عقیدت کے ساتھ یاد رکھے گی، جنہوں نے امن، انصاف اور بہتر مستقبل کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
اللہ تعالیٰ شہید عبدالحکیم کاکڑ کے درجات بلند فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ہمیں ان کی خدمات اور قربانی کو ہمیشہ یاد رکھنے کی توفیق دے۔ آمین













Leave a Reply