میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں صوبے بھر کی انسدادِ پولیو مہم کا باضابطہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس مہم کے تحت بلوچستان میں 26 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاکہ صوبے کو اس موذی مرض سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔
انسدادِ پولیو مہم میں مجموعی طور پر 11 ہزار ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں 822 فکسڈ اور 474 ٹرانزٹ ٹیمیں شامل ہیں جو شہروں، دیہی علاقوں اور آمد و رفت کے مقامات پر اپنی خدمات انجام دیں گی۔ حکومت کی جانب سے سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ ہر بچے تک بلا تعطل رسائی ممکن ہو سکے۔
وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ 15 مہینوں کے دوران بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، جو ایک بڑی پیش رفت ہے۔ اس وقت صوبے کے 23 اضلاع میں سے صرف دو علاقوں کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے، جبکہ باقی 93 فیصد علاقوں کے ماحولیات سے وائرس کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ باقی ماندہ 7 فیصد علاقوں میں بھی وائرس کے خاتمے کے لیے منظم اور مربوط اقدامات جاری ہیں۔
میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سال 2025 کے دوران پولیو کے خاتمے کے حوالے سے نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں اور موجودہ سال ماحولیاتی سطح پر پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 2026 میں بھی مؤثر اور مربوط حکمت عملی کے تحت ہر بچے تک پولیو کے قطرے پہنچائے جائیں گے۔
وزیر اعلیٰ نے والدین پر زور دیا کہ وہ پولیو مہم میں بھرپور تعاون کریں، کیونکہ ننھے بچے کسی بھی وقت اس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں اور پولیو ایک لاعلاج معذوری کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی صحت کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اگر ایک بچہ بھی پولیو کے قطروں سے محروم رہ گیا تو دوسرے بچوں کے لیے بھی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *