کوئٹہ میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر میر سلیم خان کھوسہ، صوبائی وزیر میر صادق عمرانی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران مختلف جاری ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ بلوچستان کے تقریباً 1100 تعلیمی اداروں کو فائبر آپٹیکل انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کا منصوبہ تیزی سے جاری ہے اور توقع ہے کہ اسے آئندہ چھ ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد تعلیمی اداروں میں ڈیجیٹل تعلیم اور جدید تدریسی سہولیات کو فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ مستقبل میں صوبے کے تمام تعلیمی اداروں، اسپتالوں اور سرکاری دفاتر کو بھی فائبر آپٹیکل نیٹ ورک سے جوڑنے کی تجویز زیر غور ہے تاکہ ڈیجیٹل گورننس کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس میں انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا جس کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعے تقریباً 60 ہزار نوجوانوں کو روزگار اور کاروباری سرگرمیوں سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے تاکہ صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم ہوں۔
پیپلز ٹرین سروس منصوبے کے لیے فنڈز کے اجرا میں تاخیر پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ عوامی مسائل کے فوری حل کے لیے تحصیل اور صوبائی سطح پر مؤثر شکایت سیل قائم کیے جا رہے ہیں جہاں شہری اپنی شکایات درج کرا سکیں گے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اس موقع پر کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور وہ خود بھی عوامی شکایات کے ازالے کے عمل کی نگرانی کریں گے۔ انہوں نے گڈ گورننس کو فروغ دینے اور سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات تیز کرنے کی ہدایت بھی کی۔
اجلاس میں دور دراز اور نئے قائم ہونے والے اضلاع میں انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے پری فیبریکیٹڈ دفاتر اور رہائش گاہوں کی جلد تکمیل کی ہدایت بھی دی گئی۔ اس کے علاوہ صاف پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر بھی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ صوبے کی مختلف یونین کونسلز میں ان منصوبوں پر کام جاری ہے۔
میونسپل سروسز کی بہتری کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبے کی 95 میونسپل کمیٹیوں کو جدید مشینری فراہم کرنے کا منصوبہ جاری ہے اور جون کے اختتام تک یہ مشینری متعلقہ اداروں کے حوالے کر دی جائے گی جس سے صفائی اور بلدیاتی خدمات میں بہتری آئے گی۔ تعلیم کے شعبے میں جاری منصوبوں کے تحت بلوچستان کے چار ہزار سنگل روم اسکولوں میں دو اضافی کمروں کی تعمیر بھی جاری ہے تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد بچوں کو دوبارہ اسکولوں میں داخل کیا گیا ہے جو تعلیم کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں پوست کی غیر قانونی کاشت کے خاتمے کے لیے جاری کارروائیوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ اہداف کے مطابق 30 جون تک مکمل کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو محکمے مقررہ مدت میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے ان کے غیر استعمال شدہ فنڈز واپس لے کر ان محکموں کو منتقل کیے جائیں گے جو منصوبوں پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت بلوچستان عوامی فلاح و بہبود، بہتر گورننس اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی۔
عوامی مسائل کے حل اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان













Leave a Reply