بلوچستان میں ٹیلی ہیلتھ اور ماڈل ہیلتھ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ

وزیر اعلیٰ بلوچستان Mir Sarfraz Bugti کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں صحت کے شعبے کی بہتری، خصوصاً ٹیلی ہیلتھ سہولیات کے فروغ اور اپر ڈیرہ بگٹی میں عوامی ماڈل ہیلتھ پلان پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکریٹری صحت مجیب الرحمٰن پانیزئی اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران متعلقہ حکام نے وزیر اعلیٰ کو صوبے میں ٹیلی ہیلتھ سروسز کے نظام اور اپر ڈیرہ بگٹی کو ماڈل ہیلتھ ڈسٹرکٹ بنانے کے اقدامات سے متعلق پیش رفت پر بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مختلف اضلاع میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے اور دور دراز علاقوں تک طبی خدمات پہنچانے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ اپر ڈیرہ بگٹی اور سوئی کے ہسپتالوں میں مطلوبہ طبی و انتظامی عملے کی بھرتی مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس عمل میں کسی بھی قسم کے دباؤ یا سفارش کو قبول نہیں کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صوبے میں ٹیلی ہیلتھ کے موجودہ نظام کو مزید وسعت دی جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے لوگوں کو ماہر ڈاکٹروں تک رسائی آسان ہو سکے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق ضلعی سطح پر صحت کے انتظامی امور کو جلد حتمی شکل دینا ضروری ہے تاکہ عوام کو بروقت اور معیاری علاج میسر آ سکے۔
اجلاس میں زرغون ہاؤسنگ اسکیم کوئٹہ میں قائم باچا خان میموریل ہسپتال سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنیادی مراکز صحت کی بہتری سے عوام کو ان کے گھروں کے قریب ہی بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں، جس سے صحت کے نظام پر اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ بھر میں ٹیلی ہیلتھ کے نظام کو زیادہ موثر اور فعال بنایا جائے گا، تاہم اس کے لیے مضبوط مانیٹرنگ اور مؤثر نگرانی کا نظام ناگزیر ہے تاکہ جاری منصوبوں کے نتائج عوام تک واضح طور پر پہنچ سکیں اور صحت کے شعبے میں حقیقی بہتری ممکن ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *