یونیورسٹی آف بلوچستان کی انتظامیہ نے تمام کیمپسز میں تعلیمی سرگرمیاں غیر معینہ مدت کے لیے معطل کرتے ہوئے آن لائن کلاسز شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رجسٹرار کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں اس فیصلے کی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی گئی، تاہم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ظہور احمد بزائی کے مطابق قومی شاہراہوں کی بندش کے باعث دور دراز علاقوں کے طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں، جس کے پیش نظر آن لائن کلاسز کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام طلبہ کو کسی بھی قسم کے تعلیمی نقصان سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔
وائس چانسلر نے وضاحت کی کہ اس سے قبل بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ سائنسز اور سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں بھی آن لائن تدریسی نظام کامیابی سے چلایا جا چکا ہے، جس کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی آف بلوچستان نے بھی یہی طریقہ اپنانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ انٹرنیٹ تک محدود رسائی رکھنے والے طلبہ کے لیے سہولت فراہم کی جائے گی اور عید الفطر کے بعد تعلیمی نظام کو دوبارہ معمول پر لانے کا فیصلہ کیا جائے گا۔
دوسری جانب، اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر کلیم اللہ باریچ نے اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آن لائن کلاسز سے طلبہ کا تعلیمی نقصان ہوگا اور ان کا ایک اور سیمسٹر ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2019 میں کورونا وائرس کے دوران آن لائن تعلیم کا تجربہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں طلبہ کو ایک سال کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں انٹرنیٹ سروسز کی عدم دستیابی اور طلبہ کے پاس جدید آلات نہ ہونے کے باعث آن لائن تعلیم ممکن نہیں ہو سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام اساتذہ اپنی حاضری یقینی بنا رہے ہیں، اس لیے انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اس فیصلے پر نظرثانی کرے اور معمول کی تعلیمی سرگرمیاں بحال کرے۔ اگرچہ یونیورسٹی کی جانب سے سیکیورٹی کی صورتحال کو کلاسز معطل کرنے کی وجہ نہیں بتایا گیا، لیکن حالیہ دنوں میں بلوچستان میں شدت پسند تنظیموں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث مجموعی طور پر تعلیمی اور دیگر سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔













Leave a Reply