ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کا اصل اندازہ اس کے پہلے بجٹ سے لگایا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ رواں مالی سال کا بجٹ اس حکومت کا پہلا بجٹ ہے، اور اسے نہایت سنجیدگی اور دیانت داری سے تیار کیا گیا ہے۔ ترجمان کے مطابق ماضی میں 62 فیصد سے زائد ترقیاتی فنڈز استعمال ہی نہیں کیے جاتے تھے، لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس روایت کو توڑتے ہوئے ترقیاتی بجٹ کے مکمل استعمال کا وعدہ کیا اور اس پر عملدرآمد بھی یقینی بنایا۔
شاہد رند نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے دوران دو سو ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ میں سے نوے فیصد فنڈز استعمال ہو چکے ہیں، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو امید ہے کہ مالی سال کے اختتام تک سو فیصد فنڈز بروئے کار لائے جائیں گے، جو کہ صوبے کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو جدید سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے کچلاک سے سریاب روڈ تک پیپلز ریل سروس شروع کرنے جا رہی ہے، جو صوبے کی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ترجمان نے مزید بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اپوزیشن کی تجاویز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، تاکہ بجٹ ایک متفقہ اور جامع دستاویز کے طور پر سامنے آئے۔
ترجمان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بجٹ میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی، تاکہ نوجوانوں کو روزگار ملے اور معیشت کو استحکام حاصل ہو۔ انہوں نے انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی فیصلے کرنا ناگزیر ہوتے ہیں۔
شاہد رند نے یہ بھی واضح کیا کہ اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن دونوں جماعتیں موجود تھیں اور انسداد دہشتگردی ایکٹ میں ترمیم پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمام پارلیمانی قوتیں اس حوالے سے یک زبان اور متفق ہیں۔













Leave a Reply