وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ سائنس کالج کا دورہ اور بحالی کے منصوبے

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ سائنس کالج کا دورہ کیا اور آتشزدگی سے متاثرہ عمارت کی مرمت و بحالی کے بعد اس کا باضابطہ افتتاح کیا۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر اس منصوبے کو ریکارڈ چھ ماہ کی مدت میں مکمل کیا گیا، تاکہ طلبہ کو جلد از جلد بہترین تعلیمی ماحول فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے ستمبر 2024 میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جسٹس محمد ہاشم کاکڑ کے ہمراہ کالج کا دورہ کیا تھا اور اس وقت بحالی کے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ اب وزیر اعلیٰ نے کالج کو اپنی براہ راست سرپرستی میں لینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ادارے کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔

میر سرفراز بگٹی نے سائنس کالج کے لیے ایک ارب روپے کی خصوصی گرانٹ کا اعلان کیا اور ہدایت دی کہ ماسٹر پلان تشکیل دے کر تمام پرانی عمارتوں کی تعمیر نو کی جائے اور بنیادی سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے ایک سال میں تمام سہولیات فراہم کر دی جائیں گی تاکہ یہ ادارہ جدید تعلیمی مرکز کے طور پر ابھرے۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ کالج میں جدید آئی ٹی پارک قائم کیا جائے گا، جس سے طلبہ کو عالمی معیار کی تحقیق اور سیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپنے والد مرحوم میر غلام قادر بگٹی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بھی اسی ادارے کے فارغ التحصیل تھے، اس لیے یہ کالج ان کے لیے ذاتی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے طلبہ کے لیے یہ ایک نمایاں علمی مرکز ہے اور حکومت اس کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کالج کو صوبے کا مثالی تعلیمی ادارہ بنانے کے لیے بلینک چیک دینے کو تیار ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے نوجوانوں کو مثبت سمت میں تعلیم کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور بعض عناصر کی جانب سے نوجوانوں کو لاحاصل مقاصد کی طرف راغب کرنے کی کوششوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کسی بھی ملک کی ترقی کا راستہ نہیں ہو سکتا اور بیڈ گورننس کے نام پر ریاست کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی اس پالیسی پر قائم ہیں کہ کسی کو بھی نوکریاں فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں تمام بھرتیاں میرٹ پر کی گئی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت گڈ گورننس کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور بہت سے شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ زکوٰۃ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ محکمہ زکوٰۃ سالانہ 30 کروڑ روپے تقسیم کرتا ہے، جبکہ صوبائی حکومت اس محکمے پر ایک ارب 60 کروڑ روپے خرچ کر رہی ہے، اور اب یہ رقم ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے بھی تقسیم کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے اساتذہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نوجوانوں کی ذہنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ والدین اور تعلیمی ماہرین سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کیا جائے اور ریاست مخالف پروپیگنڈہ کرنے والے عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے۔

میر سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ بعض دشمن عناصر نوجوانوں کو خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ریاست کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی ایک طالبہ کو خودکش جیکٹ پہنائی گئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی منظم کوششیں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں میں ملک کے خلاف سازشوں کو سمجھنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے ذریعے منفی پہلوؤں کو ابھارا جا رہا ہے اور مثبت سرگرمیوں کو پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ بلوچستان کی غیر متوازن ترقی کو بنیاد بنا کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر متوازن ترقی پورے ملک کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جو ترقی کراچی میں ہے وہ کشمور میں نہیں، جو کوئٹہ میں ہے وہ پشین میں نہیں، جو قلعہ سیف اللہ میں ہے وہ سرند جوگیزئی میں نہیں، اور جو ڈیرہ بگٹی میں ہے وہ بیکڑ میں نہیں۔ اسی طرح جو ترقی لاہور میں ہے وہ ڈیرہ غازی خان میں نہیں، یہ مسئلہ صرف بلوچستان تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست سے متنفر کرنے کی سازش ہو رہی ہے اور اس کے خلاف ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں اور ملک کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ روزِ قیامت ہر شخص سے اس کے کردار کے بارے میں پوچھا جائے گا، لہٰذا ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھانا چاہیے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *