اے این پی کے رکن صوبائی اسمبلی نعیم بازئی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ حلفیہ کہتے ہیں کہ سرفراز بگٹی، سردار ثنا اللہ زہری اور ڈاکٹر مالک بلوچ سے زیادہ بلوچ قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرفراز بگٹی نے بلوچستان کی عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بے شمار اقدامات کیے ہیں اور ان کی قیادت میں صوبے کی ترقی کے لیے اہم فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
نعیم بازئی کا کہنا تھا کہ سرفراز بگٹی نے تمام وزارتیں بلوچ رہنماؤں کو دی ہیں اور صرف دو پشتون رہنما، نور محمد دمڑ اور بخت محمد کاکڑ، وزراء کے طور پر شامل ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی حکومت بلوچ قوم کی نمائندگی کے لیے سنجیدہ ہے۔ تاہم، انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود بلوچ قوم سرفراز بگٹی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں، جو ان کے نزدیک ایک ناقابلِ فہم رویہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سرفراز بگٹی کی حکومت حقیقی معنوں میں بلوچستان کی بہتری کے لیے کام کر رہی ہے اور ان کی کوششیں کسی مخصوص قوم یا طبقے کے لیے نہیں بلکہ پورے صوبے کے لیے ہیں۔ ان کے مطابق، اگر بلوچستان میں استحکام اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانا ہے تو عوام کو ذاتی اور سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا۔
نعیم بازئی نے کہا کہ وہ باچاخان کے پیروکار ہیں اور عدم تشدد کے فلسفے پر کاربند ہیں۔ ان کے نزدیک عوامی خدمت اور امن کا فروغ سب سے اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں وزیر بنایا جائے یا نہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ان کا مقصد صرف اور صرف بلوچستان کی بہتری ہے۔
انہوں نے آخر میں دعا کی کہ اللہ بلوچستان میں امن قائم کرے اور صوبے کے عوام کو ترقی اور خوشحالی نصیب ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام سیاسی رہنما اور عوام مل کر صوبے کی بہتری کے لیے کام کریں گے تاکہ بلوچستان کو درپیش چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔













Leave a Reply