وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ہیلپرز آئی ہسپتال کوئٹہ میں بینائی سے محروم افراد کے لیے کورنیل ٹرانسپلانٹ کا آغاز بلوچستان

بلوچستان کے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبے میں ایک انقلابی قدم اٹھایا گیا ہے جس کے تحت ہیلپرز آئی ہسپتال کوئٹہ میں پہلی بار کورنیل ٹرانسپلانٹ یعنی قرنیہ کی پیوند کاری کا آغاز کیا گیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے، خاص طور پر اُن افراد کے لیے جو کسی بیماری یا حادثے کے باعث اپنی بینائی سے محروم ہو چکے تھے۔

کورنیل ٹرانسپلانٹ ایک ایسا جدید طبی عمل ہے جس میں انسانی آنکھ کے شفاف پردے (قرنیہ) کو کسی دوسرے انسان کے عطیہ کردہ قرنیہ سے تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ عمل اُن افراد کے لیے اُمید کی کرن ثابت ہوتا ہے جن کی بینائی قرنیہ کی خرابی کے باعث متاثر ہو چکی ہو۔ اب کوئٹہ کے عوام کو اس جدید سہولت کے لیے دوسرے شہروں یا ممالک کا رخ نہیں کرنا پڑے گا، کیونکہ اب یہ علاج ان کے اپنے صوبے میں دستیاب ہے۔

اس اہم سنگ میل کے تحت ابتدائی مرحلے میں چند مریضوں کی مفت کورنیل ٹرانسپلانٹ سرجری کی گئی ہے، جو کہ مکمل طور پر کامیاب رہی۔ ہیلپرز آئی ہسپتال نے جدید ترین مشینری اور ماہر ڈاکٹروں کی مدد سے یہ عمل مکمل کیا، جس پر مریضوں اور ان کے لواحقین نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے ہسپتال کا دورہ کرتے ہوئے سرجنز اور انتظامیہ کو سراہا اور اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے دنوں میں مزید لوگوں کو اس سہولت سے فائدہ پہنچے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں بہتری حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے اور اس منصوبے کا آغاز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کورنیل ٹرانسپلانٹ جیسے جدید طبی اقدامات بلوچستان کے عوام کو معیاری علاج فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے اور ساتھ ہی یہ قدم دوسرے صوبوں کے لیے بھی ایک مثال بنے گا۔ اس موقع پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنکھوں کے عطیہ دینے کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ مزید لوگوں کو روشنی کی دنیا واپس مل سکے۔

یہ پیش رفت بلوچستان کی صحت کے شعبے میں ایک نیا باب ہے جس سے نہ صرف مریضوں کو فائدہ ہوگا بلکہ میڈیکل کے شعبے میں بھی ترقی اور تحقیق کے نئے دروازے کھلیں گے۔ ہیلپرز آئی ہسپتال کوئٹہ اور حکومت بلوچستان کی مشترکہ کاوشوں سے یہ خواب حقیقت میں بدلا ہے جو برسوں سے ہزاروں مریضوں کی اُمید تھا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *