اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ نے کوئٹہ میں محکمہ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے سابق ڈائریکٹر ایڈمن فیض اختر کو مبینہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری ایک اہم کارروائی کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کے دوران محکمہ کے مالی معاملات میں بے ضابطگیوں کا پتہ لگایا گیا۔
ذرائع کے مطابق، فیض اختر کے خلاف درج مقدمے میں ایف آئی آر نمبر 10/Q/2024 شامل ہے، جس میں محمد ایاز، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈیجی ٹیک سلوشن، اور دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ مقدمہ اس بنیاد پر قائم کیا گیا تھا کہ سال 2022 میں محکمہ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے جنرل میڈیسن کی خریداری کے لیے ڈیجی ٹیک سلوشن کو 51,97,483 روپے کی پیشگی ادائیگی کی تھی، جو بعد ازاں مشکوک ثابت ہوئی۔
تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ فیض اختر نے مبینہ طور پر ڈیجی ٹیک سلوشن کے ساتھ ملی بھگت کر کے مالی فوائد حاصل کیے اور اس پورے معاملے میں بدعنوانی کے شواہد سامنے آئے۔ مزید برآں، اینٹی کرپشن حکام نے اشارہ دیا ہے کہ اس کیس کی مزید چھان بین سے اضافی مالی بے ضابطگیوں اور ممکنہ کرپشن کے نئے پہلو بھی سامنے آ سکتے ہیں، جس سے دیگر افراد کے ملوث ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لے رہی ہے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کیس نہ صرف سرکاری محکموں میں کرپشن کے خلاف جاری کوششوں کا حصہ ہے بلکہ بدعنوان عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مظہر ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں اور بدعنوانی میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔













Leave a Reply