وزیر اعلیٰ بلوچستان کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ پر اہم اجلاس، ٹریفک اصلاحات اور دیگر فیصلے

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک مینجمنٹ، شہری ترقی، صفائی، تعلیم اور دیگر امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی شہر کو “ڈاؤن ٹاؤن” قرار دے کر وہاں رکشوں پر پابندی عائد کی جائے گی اور محدود تعداد میں الیکٹرک کاروں کا استعمال متعارف کرایا جائے گا تاکہ ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر اور ماحول کو صاف رکھا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے شہر میں وال چاکنگ کی روک تھام کے لئے سخت احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں ملوث سیاسی جماعتوں اور نجی کمپنیوں کو قانونی نوٹس جاری کیے جائیں۔ انہوں نے ہدایت دی کہ حکمراں جماعتوں سمیت کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہ برتی جائے اور خلاف ورزی پر بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔ سیاسی جلسوں یا سرگرمیوں کے بعد لگائے گئے پینا فلیکس اور دیگر تشہیری مواد کو فوری ہٹانے کی بھی سختی سے تاکید کی گئی۔

تعلیمی شعبے کی بہتری کے لئے غیر فعال سرکاری اسکولوں کو بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے تحت دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ جنگلات کو ہدایت دی کہ شجر کاری کے فروغ کے لئے ایک جامع منصوبہ جلد از جلد پیش کیا جائے۔

اجلاس میں کیف بلدیہ کی تنظیم نو کے حوالے سے سمری میں تاخیر پر وزیر اعلیٰ نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پر برہمی کا اظہار کیا اور سست روی پر ان سے وضاحت طلب کر لی۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ عوامی فلاح کے منصوبوں میں کسی قسم کی تاخیر یا کوتاہی ناقابل قبول ہے۔

اجلاس میں کمشنر کوئٹہ ڈویژن حمزہ شفقات نے شہر میں جاری بھکاریوں کے خلاف مہم پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ہفتے کے دوران 1500 سے زائد پیشہ ور بھکاریوں کو حراست میں لے کر بحالی مراکز منتقل کیا گیا۔ کمشنر کوئٹہ نے شہر کی سڑکوں پر آزادانہ گھومنے والے بیلوں اور گایوں کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ یہ جانور ٹریفک میں خلل اور شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سلسلے میں میٹروپولیٹن عملہ گزشتہ سات روز میں ایسے سات بیل پکڑ کر فلاحی اداروں کے حوالے کر چکا ہے۔

اجلاس میں طے پائے گئے فیصلوں کا مقصد کوئٹہ شہر کو صاف، منظم اور شہریوں کے لیے سہولت بخش بنانا ہے تاکہ ایک جدید اور پائیدار شہری نظام قائم کیا جا سکے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *