پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کا اجلاس چیئرمین اصغر علی ترین کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں کمیٹی کے اراکین زرین خان مگسی، فضل قادر مندوخیل، اور زابد علی ریکی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈی جی آڈٹ بلوچستان شجاع علی، سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجنئرنگ ڈپارٹمنٹ، ایڈیشنل سیکرٹری پی اے سی سراج لہڑی، ایم ڈی واسا کوئٹہ محمد گل، چیف اکاونٹس آفیسر پی اے سی سید ادریس آغا اور ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ قانون سعید اقبال بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں مالی سال 2021-22 کے اپروپریشین اکاؤنٹس اور 2022-23 کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ خاص طور پر کوئٹہ واٹر اینڈ سینیٹیشن اتھارٹی (کوئٹہ واسا) کی کارکردگی پر بات کی گئی۔ کوئٹہ واسا، جو 1989 میں پانی کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے قائم کی گئی تھی، کو ناکامی اور نااہلی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
کوئٹہ واسا کو ترقیاتی اور غیر ترقیاتی مد میں 1,727.918 ملین روپے دیے گئے تھے، جن میں سے 1,721.614 ملین روپے خرچ کیے گئے، لیکن ترقیاتی مد میں 6.004 ملین روپے کی بچت ظاہر کی گئی۔ واسا حکام ان اخراجات کا ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہے، جس پر پی اے سی نے ناراضگی کا اظہار کیا اور معاملے کو اگلے اجلاس تک مؤخر کر دیا۔
مزید برآں، کوئٹہ واسا پانی کے محصولات میں 10 فیصد اضافے کے باوجود 1,952.753 ملین روپے کے بقایا جات وصول کرنے میں ناکام رہا۔ پی اے سی نے وصولی کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے اسپیشل مجسٹریٹ کی تقرری کا حکم دیا اور ٹائم فریم مقرر کرنے کی ہدایت دی۔
واساکے ملازمین کو مالی سال 2020-21 کے دوران اضافی میڈیکل الاؤنس دیا گیا، جو مالی قواعد کی خلاف ورزی تھی۔ پی اے سی نے اضافی ادائیگی واپس لینے کا حکم دیا۔ اسی طرح پنشن فنڈز کی غیر قانونی سرمایہ کاری پر محکمانہ تحقیقات کی ہدایت کی گئی۔
کوئٹہ واسا نے کیسکو کو پیشگی ادائیگی کی، لیکن کئی سال گزرنے کے باوجود ٹرانسفارمرز کی تنصیب مکمل نہ ہو سکی۔ پی اے سی نے کیسکو کے چیف کو طلب کرنے اور تاخیر کی وضاحت کرنے کا حکم دیا۔
اجلاس میں کوئٹہ واسا کی انتظامی خامیوں پر بھی بات ہوئی۔ غیر قانونی ٹیوب ویل اور ٹینکر مافیا کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر ادارے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ زابد علی ریکی نے نشاندہی کی کہ 521 ٹیوب ویل ہونے کے باوجود شہری پانی کے لیے ٹینکرز پر انحصار کر رہے ہیں۔
چیئرمین پی اے سی نے واسا کو بقایا جات کی وصولی، مالی نظم و ضبط، اور خدمات کی بہتری پر زور دیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مسائل کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر کو آئندہ اجلاس میں بلایا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر چیئرمین نے تمام اراکین کا شکریہ ادا کیا۔













Leave a Reply