وزیرِاعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کوئٹہ میں قبائلی جرگے سے خطاب، بھارت کی پشت پناہی میں جاری دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم کا اعادہ

وزیرِاعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نشانِ امتیاز (ملٹری) نے کوئٹہ کے زہری آڈیٹوریم میں قبائلی عمائدین کے ایک عظیم الشان جرگے سے مشترکہ خطاب کیا۔ یہ جرگہ بلوچستان میں بدلتے ہوئے سیکیورٹی حالات اور بھارت کی پشت پناہی میں جاری پراکسی وار پر قبائلی قیادت سے مشاورت کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

وزیرِاعظم نے خطاب میں واضح کیا کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر بلوچستان میں امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے اور حکومتی و عسکری ترقیاتی منصوبوں کو ناکام بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد گروہ جیسے فتنہ الہندستان، مقامی افراد کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جسے ہر قیمت پر روکا جانا ضروری ہے۔ وزیرِاعظم نے قبائلی عمائدین کے مثبت کردار اور قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر عوامی شمولیت اور دہشت گردوں کو سماجی طور پر تنہا کرنا انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دشمنوں کو اب اس ملک میں کہیں بھی جگہ نہیں ملے گی۔ حکومت، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انتظامی نظام، قوم کی مکمل حمایت کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

وزیرِاعظم نے بلوچستان کی ترقی کے لیے شروع کیے گئے تاریخی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ ان کے ثمرات عام لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کے تاریخی کردار کو سراہا اور ان پر زور دیا کہ وہ بیرونی سازشوں اور بھارتی سرپرستی میں ہونے والی تخریب کاری کے خلاف چوکس رہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “یہ بھارتی سرپرستی میں جاری پراکسی وار اب کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں بلکہ ایک کھلی دہشت گردی ہے جو ہمارے عوام، ترقی اور امن پر حملہ ہے۔ ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ دشمن کی یہ سازشیں ناکام ہوں گی۔ پاکستان آرمی قوم اور بہادر بلوچ عوام کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ ہر دشمن، چاہے وہ اندرونی ہو یا بیرونی، کو ناکام بنائے گی۔”

فیلڈ مارشل نے کہا کہ پاکستان آرمی ہر ممکن خطرے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ بلوچستان کا امن ناقابلِ مفاہمت ہے اور پاکستان کا مستقبل ایک مستحکم اور خوشحال بلوچستان سے وابستہ ہے۔

وزیرِاعظم اور آرمی چیف نے بلوچستان میں خدمات سرانجام دینے والے سیکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں کی بہادری اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ وزیرِاعظم نے شہداء کے اہلِ خانہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مددگاروں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔

جرگہ اختتام پذیر ہوا تو قبائلی عمائدین نے متفقہ طور پر حکومتِ پاکستان اور مسلح افواج کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے بلوچستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

اس سے قبل وزیرِاعظم نے کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ کا بھی دورہ کیا اور زیرِ تربیت افسران و فیکلٹی سے خطاب کیا۔ ان کے خطاب میں حکومت کا یہ پیغام نمایاں تھا کہ بدلتے ہوئے علاقائی اور داخلی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کے دفاعی اداروں کو مزید مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔

وزیرِاعظم نے اپنے خطاب میں بلوچستان جیسے حساس علاقوں میں بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے خطرے کو اجاگر کرتے ہوئے پیشہ ورانہ مہارت، عملی تیاری اور اسٹریٹجک سوچ کی اہمیت پر زور دیا تاکہ پاکستان کی ترقی اور امن کو درپیش نئے اور ہائبرڈ خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *