نوشکی حملہ: بلوچستان کے امن پر حملہ یا بیرونی سازش؟

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ایک افسوسناک خودکش حملے کے نتیجے میں پاک فوج کے تین جوان اور دو سویلین شہید ہوگئے۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب ملک دشمن عناصر بلوچستان کے امن کو نقصان پہنچانے کی مسلسل کوششوں میں مصروف ہیں۔ دہشتگردوں کے اس بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والے فوجی جوانوں میں حوالدار منظور علی، حوالدار علی بلاول اور نائیک عبد الرحیم شامل ہیں، جو اپنی جانوں کی قربانی دے کر مادر وطن کے دفاع میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے۔ ان کے ساتھ ساتھ سید جلال الدین اور محمد نعیم نامی دو شہری بھی اس حملے میں شہید ہوگئے، جو روزمرہ کی زندگی میں محنت مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کا سہارا تھے۔

یہ حملہ دشمن کی ان مذموم سازشوں کی عکاسی کرتا ہے جو بلوچستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے رچی جا رہی ہیں۔ تاہم، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز پہلے بھی دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا چکی ہیں اور اس بار بھی دہشتگردوں کو ان کے انجام تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گی۔ بلوچستان کے عوام نے ہمیشہ ملک دشمن عناصر کے خلاف ریاست کا ساتھ دیا ہے اور یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے عوام اور سیکیورٹی ادارے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔

نوشکی میں ہونے والا یہ حملہ ایک بار پھر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور دشمن اب بھی وطن عزیز کے امن کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے۔ لیکن پاک فوج، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان عناصر کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان کے خون کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام متحد ہو کر ہر سازش کو ناکام بنائیں گے اور ملک میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *