قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس چھ گھنٹے تک جاری رہا، جس میں اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، سیکیورٹی چیلنجز اور ریاستی عمل داری کی بحالی کے لیے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق، دہشت گردوں کے مکمل خاتمے کے ساتھ ساتھ ان کے حامیوں، پروپیگنڈا پھیلانے والوں اور سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کا ساتھ دینے والوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے ہر ممکن آپشن استعمال کیا جائے گا۔ فوجی قیادت نے اجلاس کے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی اور بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر شواہد پیش کیے۔ اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے کوئی جگہ نہیں، اور ریاستی رٹ کو ہر صورت بحال رکھا جائے گا۔
اجلاس میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر، ڈی جی آئی ایس آئی، چاروں وزرائے اعلیٰ، گورنرز، بلاول بھٹو، مولانا فضل الرحمان، خواجہ آصف، احسن اقبال، یوسف رضا گیلانی، فیصل واوڈا، خالد مقبول، جام کمال سمیت دیگر اہم شخصیات شریک تھیں۔ تاہم، محمود خان اچکزئی، اختر مینگل اور پاکستان تحریک انصاف کے ارکان اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔













Leave a Reply