بلوچستان میں مسنگ پرسن کے نام پر کئی سالوں سے ریاست پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ان ہی کوششوں کا ایک اور چہرہ حالیہ دنوں میں بے نقاب ہوا ہے۔ بی ایل اے کے دہشتگرد بابر جو افغانستان میں اسلم اچو کے ساتھ مارا گیا، اس کی ماں تاج بی بی جرمنی میں بیٹھ کر اپنے بیٹوں زاکر مجید اور عبدالوحید کو “مسنگ پرسن” قرار دے کر دنیا کو گمراہ کر رہی ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے بیٹے پہلے دبئی میں تھے اور اب نیدرلینڈ اور جرمنی میں موجود ہیں۔
یہ خاتون خود بیرونِ ملک مقیم ہیں اور اپنے بیٹوں کی موجودگی کے باوجود ریاست پر جھوٹا الزام لگاکر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ عدالتی ریکارڈ اور دیگر کاغذی شواہد کے ساتھ ساتھ ویڈیوز بھی موجود ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ زاکر مجید اور عبدالوحید لاپتہ نہیں بلکہ دوسرے ملکوں میں پر آسائش زندگی گزار رہے ہیں۔
یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان کی سیکیورٹی اداروں کو دنیا کے سامنے بدنام کیا جا سکے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک ماں، جو ضعیفی اور مظلومیت کی آڑ میں قوم کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہے، حقیقت میں اپنے دہشتگرد بیٹوں کو بچانے کی مہم چلا رہی ہے۔
ریاستی اداروں کو چاہیے کہ اس جھوٹے پراپیگنڈے کے خلاف بین الاقوامی فورمز پر اصل حقائق پیش کرے تاکہ دنیا کو معلوم ہو سکے کہ مسنگ پرسن کا بیانیہ محض ایک فریب ہے، جس کا مقصد صرف پاکستان کو کمزور کرنا ہے، نہ کہ انسانی حقوق کے تحفظ کی کوئی مخلصانہ کوشش۔













Leave a Reply