مہرانگ بلوچ کے خلاف چوتھے شیڈول کی خلاف ورزی پر ایف آئی آر درج

کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مہرانگ بلوچ کے خلاف دہشت گردی کی روک تھام ایکٹ (اے ٹی اے) 1997 کے چوتھے شیڈول کی خلاف ورزی پر ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ ایکٹ خاص طور پر ان افراد پر لاگو ہوتا ہے جن پر دہشت گردی یا انتہا پسند سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہو۔ اس کا مقصد قومی سلامتی کو یقینی بنانا اور عوامی تحفظ کو برقرار رکھنا ہے۔

چوتھے شیڈول میں شامل افراد پر سخت نگرانی کی جاتی ہے تاکہ ان کی تمام سرگرمیوں پر نظر رکھی جا سکے۔ ان افراد کو پولیس یا متعلقہ حکام کو اپنی موجودگی اور سرگرمیوں کی اطلاع دینا لازمی ہوتا ہے۔ یہ اقدام ان کے حرکات و سکنات کو محدود رکھنے اور کسی بھی ممکنہ غیر قانونی عمل کو روکنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

مزید برآں، چوتھے شیڈول کے تحت ان افراد پر سفری پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ انہیں کسی بھی مخصوص علاقے یا ملک سے باہر جانے کے لیے حکام سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔ یہ سفری پابندیاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ یہ افراد اپنی سرگرمیاں کسی دوسرے علاقے میں منتقل نہ کریں جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

مالیاتی پابندیاں بھی اس شیڈول کا ایک اہم حصہ ہیں۔ چوتھے شیڈول میں شامل افراد کے بینک اکاؤنٹس منجمد کر دیے جاتے ہیں تاکہ وہ کسی غیر قانونی سرگرمی کے لیے مالی وسائل کا استعمال نہ کر سکیں۔ یہ اقدام ان کی مالی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور ان کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

اگر مہرانگ بلوچ پر ان شرائط کی خلاف ورزی ثابت ہو جائے تو انہیں گرفتار کر کے قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ قانون کے تحت انہیں سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں تاکہ یہ واضح ہو کہ دہشت گردی یا انتہا پسندی کے کسی بھی شبے پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔

چوتھے شیڈول کا بنیادی مقصد دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرنا اور ملک میں امن و امان قائم رکھنا ہے۔ تاہم، اس بات کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان قوانین کا اطلاق انصاف اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق ہو۔ کسی بھی فرد پر الزامات عائد کرتے وقت شفاف تحقیقات اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھنا چاہیے تاکہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور قانون کی بالادستی قائم رہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *