ماہرنگ غفار، جو ریاست کے خلاف بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہے، خود اسی ریاست کے وسائل پر پروان چڑھی۔ محکمہ صحت بلوچستان کے ذرائع کے مطابق بی وائی سی کی سربراہ ماہرنگ غفار نے سرکاری اخراجات پر ایم بی بی ایس مکمل کیا، جس پر حکومت کا تقریباً ایک کروڑ روپے خرچ ہوا۔ دورانِ تعلیم وہ ہر ماہ چھ ہزار روپے اسکالرشپ حاصل کرتی رہی، جبکہ ہاؤس جاب کے دوران اسے 42 ہزار روپے ماہانہ سرکاری وظیفہ ملا۔ مزید یہ کہ گزشتہ دو سال سے وہ پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے نام پر 72 ہزار روپے ماہانہ وصول کر رہی ہے۔
ماہرنگ غفار اکثر یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو مواقع نہیں ملتے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاست نے ایک ایسے شخص کی بیٹی کو بھی کروڑوں روپے کے تعلیمی اخراجات اور وظائف دیے، جو ریاست کے خلاف سرگرم رہا۔ اس کے باوجود ماہرنگ ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرنے اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے میں مصروف ہیں۔
ذرائع کے مطابق، ماہرنگ غفار ایک غیر سرکاری تنظیم (این جی او) میں بھی کام کرتی رہی ہیں، جہاں سے وہ لاکھوں روپے کماتی رہی ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کے پیش نظر متعلقہ ادارے تمام ریکارڈ مرتب کر رہے ہیں اور تفصیلات کو اعلیٰ حکام کے ساتھ شیئر کیا جا رہا ہے۔
ریاست کے وسائل پر پلنے والے افراد کی جانب سے ریاست مخالف بیانیہ ناقابل قبول ہے، اور اس معاملے پر مزید قانونی کارروائی کے لیے بھی معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔













Leave a Reply