ماہرنگ غفار کے بیانات اور حقیقت

ماہرنگ غفار کے دعوے اکثر حقیقت کے برعکس ثابت ہوتے ہیں، اور حال ہی میں ان کے ایک اور بیان کی سچائی بے نقاب ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ان کی والدہ نے ان کی میڈیکل تعلیم کے لیے پہلے گھر کے کپڑے اور پھر جیولری فروخت کی، لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔

بلوچستان میں بولان میڈیکل کالج میں میڈیکل کی تعلیم مفت فراہم کی جاتی ہے، اور ہر سال طلبہ سے صرف دس سے پندرہ ہزار روپے معمولی فیس وصول کی جاتی ہے۔ یہ فیس بھی حکومت بلوچستان کی جانب سے ویلفیئر فنڈ کے ذریعے ادا کی جاتی ہے۔ یعنی ماہرنگ کی تعلیم کے اخراجات کسی ذاتی قربانی کے بجائے ریاست نے برداشت کیے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے دعوے حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔

ریاست نے ماہرنگ غفار کو ہر ممکن سہولت فراہم کی، انہیں ایک ڈاکٹر بنایا، اور ہر لحاظ سے مدد فراہم کی۔ اس کے باوجود وہ اسی ریاست کے خلاف زہر اگلتی ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان کی نوجوان نسل کے پاس مواقع نہیں، اسی لیے وہ ریاست سے ناراض ہو جاتے ہیں، مگر ماہرنگ جیسے افراد کی حقیقت اس بیانیے کو غلط ثابت کرتی ہے۔ انہیں تو تمام مواقع ملے، تمام سہولتیں فراہم کی گئیں، لیکن پھر بھی وہ بغاوت کے راستے پر چل پڑیں۔

ماہرنگ غفار بی ایل اے کے دہشت گرد غفار لانگو کی بیٹی ہیں، اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر بھی وہی زہریلا نظریہ پروان چڑھا ہے۔ ریاست نے انہیں اپنانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر کچھ عناصر ہمیشہ فتنہ و فساد پھیلانے کے درپے رہتے ہیں۔ یہ وہی مٹھی بھر لوگ ہیں جو ریاست سے فائدے تو اٹھاتے ہیں، مگر اس کے خلاف ہی کام کرتے ہیں۔ بلوچستان میں حقیقی ترقی اور امن تب ہی ممکن ہوگا جب ایسی سازشی ذہنیت رکھنے والے افراد کو بے نقاب کیا جائے اور ریاست کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو ان کے جھوٹ سمیت عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *