کلبھوشن 2.0 – ایران میں را کا بلوچستان میں دہشتگردی کا نیٹ ورک بے نقاب

مصدقہ اطلاعات کے مطابق، بھارتی خفیہ ایجنسی را کا سینئر ایجنٹ اجیت جون جوشہ اس وقت ایران میں سرگرم ہے، جہاں وہ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے بی ایل اے اور بی ایل ایف (اللہ نذر گروپ) کے دہشتگردوں سے ملاقاتیں کر رہا ہے۔ یہ نیٹ ورک پاکستان-ایران سرحد کے علاقوں مند، تربت، جوزک، تفتان اور دالبندین میں دہشتگردی کو منظم کرنے اور ریاست مخالف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں ملوث پایا گیا ہے۔

اجیت جون جوشہ 2014 سے سفارتی کور کے پردے میں را کے لیے کام کر رہا ہے اور بلوچستان میں دہشتگرد گروہوں کو مالی اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی کا یہ نیٹ ورک خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے مختلف دہشتگرد گروہوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے، تاکہ پاکستان کو اندرونی سطح پر نقصان پہنچایا جا سکے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیاں بے نقاب ہوئی ہوں، بلکہ اس سے قبل بھی کلبھوشن یادیو جیسے بھارتی جاسوسوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت مسلسل پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے۔ بلوچستان میں را کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید شواہد سامنے آ چکے ہیں، اور یہ واضح ہو چکا ہے کہ دشمن قوتیں پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ تاہم، پاکستان کی سیکیورٹی ایجنسیاں ان سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے مکمل طور پر مستعد ہیں اور دشمن کو ہر محاذ پر شکست دینے کے لیے پرعزم ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *