کراچی ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں دہشتگردوں نے بلوچ خواتین کو اپنے منصوبے کے لیے ڈھال اور سہولت کار کے طور پر استعمال کیا۔ اس حملے میں چھ بلوچ خواتین کو ملوث کرنے کا انکشاف ہوا ہے جنہیں دہشتگردوں نے مختلف قسم کے ہتھیار فراہم کیے اور ان کی مدد سے حملہ کیا۔ گرفتار سہولت کار گل نسا نے دوران تفتیش یہ اہم انکشافات کیے کہ دہشتگردوں نے خواتین کو خودکش جیکٹیں، کلاشنکوف، گولیاں اور گرنیڈ فراہم کیے۔
گل نسا نے بتایا کہ اس پر خودکش جیکٹ پہننے کے لیے دباؤ ڈالا گیا تھا، تاہم انکار کرنے پر اسے گاڑی سے اتار دیا گیا تھا۔ گل نسا نے مزید کہا کہ شاہ فہد عرف سرفراز نے اسے کئی بار کراچی لے جانے کی کوشش کی اور جب وہ اس سے تعلق ختم کرنے کی کوشش کرتی تو وہ ہر بار اس کا نمبر بدلنے کے باوجود اس سے رابطہ کر لیتا تھا۔ شاہ فہد اکثر حب چوکی کے قریب بلاتا اور ہمیشہ ایک خاص کالے رنگ کی کار استعمال کرتا تھا۔
یہ انکشافات اس بات کا عکاس ہیں کہ دہشتگرد تنظیموں نے جدید حربوں کا استعمال کیا ہے اور خواتین کو اپنی دہشت گردی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اپنے منصوبوں کو چھپایا جا سکے۔ اس واقعے نے یہ بھی ثابت کیا کہ کس طرح دہشتگرد گروہ عام شہریوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس حملے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس طرح کی وارداتوں کا سدباب کرنے کے لیے مزید موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ملک بھر میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کو روکا جا سکے۔













Leave a Reply