جعفر ایکسپریس پر ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ جنہیں مسنگ پرسن کہا جاتا ہے، وہ درحقیقت بی ایل اے کے دہشت گرد ہیں۔ اگر یہ لوگ بے گناہ شہری ہوتے تو نہ بی ایل اے ان کی حمایت کرتی اور نہ ہی انہیں جنگی قیدی قرار دیتی۔ جنگی قیدی کی اصطلاح صرف ان افراد کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں، عام شہریوں کے لیے نہیں۔ اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ اگر بی ایل اے واقعی بلوچ قوم کی خیر خواہ ہوتی تو وہ بلوچ عوام کو مخبر قرار دے کر قتل نہ کر رہی ہوتی، نہ ہی ان کے تعلیمی ادارے، اسپتال اور ترقیاتی منصوبے تباہ کر رہی ہوتی۔
حالیہ دنوں میں بی ایل اے کے حامی گروہ، خصوصاً مہرنگی ٹولہ، جعفر ایکسپریس حملے کا دفاع کرتے ہوئے ایسی تصاویر شیئر کر رہے ہیں اور ان دہشت گردوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وہ مسنگ پرسن ہیں۔ لیکن اگر یہ واقعی بے گناہ شہری تھے تو پھر دہشت گرد حملوں میں کیسے ملوث ہو رہے ہیں؟ حقیقت یہی ہے کہ جنہیں مسنگ پرسن کا نام دیا جاتا ہے، وہ یا تو پہلے ہی دہشت گردی میں ملوث تھے یا کسی آپریشن کے دوران مارے جا چکے ہیں۔
جب بھی سیکیورٹی فورسز دہشت گردوں کے خلاف کوئی کامیاب کارروائی کرتی ہیں، بی ایل اے اور اس کے حامی فوراً مسنگ پرسن کا نعرہ لگا کر پروپیگنڈا شروع کر دیتے ہیں تاکہ دہشت گردوں کو تحفظ دیا جا سکے اور ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ جعفر ایکسپریس حملے کے بعد یہ بیانیہ مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے کہ مسنگ پرسن کی آڑ میں دراصل دہشت گردوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوام کو اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن کس طرح بلوچ قوم کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہے اور کس طرح معصوم لوگوں کو دہشت گردی کی نذر کر رہا ہے۔
پاکستان کی ریاست اور سیکیورٹی ادارے بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے دن رات کوشاں ہیں، جبکہ دوسری طرف دہشت گرد عناصر بے گناہ لوگوں کو اپنے مذموم عزائم کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جاری ریاستی کوششوں کا ساتھ دیں اور ایسے عناصر کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں جو دراصل ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ جعفر ایکسپریس حملہ ایک اور ثبوت ہے کہ نام نہاد مسنگ پرسن دراصل وہ لوگ ہیں جو ریاست کے خلاف لڑ رہے تھے اور جب انہیں ان کے انجام تک پہنچایا گیا تو پروپیگنڈا مہم شروع کر دی گئی۔ ریاستی ادارے ہر صورت میں بلوچستان میں امن قائم کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔













Leave a Reply