وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے سینیٹر دنیش کمار کی قیادت میں ہنگلاج ماتا مندر کے مکھیا کی وفد نے ملاقات کی، جس میں سابق وزیر اعظم انور الحق کاکڑ بھی شریک تھے۔ وفد نے ہنگلاج ماتا مندر میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر حکومت بلوچستان کا شکریہ ادا کیا اور اس تاریخی و مذہبی مقام کی مزید بہتری کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے اس موقع پر ہنگلاج ماتا مندر کو ایک عالمی معیار کی مذہبی سیاحتی مقام بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ مالی سال کے صوبائی بجٹ میں مندر کے لیے مزید وسائل مختص کیے جائیں گے تاکہ یہاں آنے والے یاتریوں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں اقلیتوں کو الگ تصور نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں اکثریت کا حصہ سمجھا جاتا ہے، اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سینیٹر دنیش کمار کے کردار کو بھی سراہا، جو ہمیشہ اقلیتوں کے حقوق اور سماجی بہبود کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اقلیتوں کو تعلیم، صحت، روزگار اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں، اور بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام میں بھی ان کے لیے خصوصی کوٹہ مختص کیا گیا ہے، تاکہ وہ اعلیٰ تعلیم کے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
بلوچستان میں مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کی فضا قائم ہے، جس کی مثال ہنگلاج ماتا مندر ہے، جہاں ہر سال لاکھوں یاتری آتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس مقام کو عالمی سطح پر ایک نمایاں مذہبی سیاحتی مقام کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے اور حکومت یاتریوں کو تمام تر سہولیات کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کی معاشی اور سماجی ترقی میں اقلیتوں کا کردار نمایاں ہے اور اسے کسی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان حکومت اقلیتوں کے حقوق اور ان کی ترقی کے لیے سنجیدہ اقدامات جاری رکھے گی تاکہ ہر طبقہ برابری کے مواقع سے مستفید ہو سکے۔













Leave a Reply