گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے رخشان ڈویژن کے اہم شہر دالبندین میں منعقدہ عوامی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں دیرپا امن، معاشی استحکام اور میرٹ کی پاسداری کے لیے جاری کوششیں ضرور مثبت نتائج دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جرگہ ہماری ایک قدیم اور مؤثر روایت ہے، جس کے ذریعے نہ صرف داخلی بلکہ خارجی چیلنجز سے نمٹنے کی راہ نکلتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈویژنل سطح پر جرگوں کے انعقاد کا مقصد مقامی مسائل سے براہ راست آگاہی حاصل کرنا اور زمینی حقائق کے مطابق پالیسی سازی کو فروغ دینا ہے۔ جرگے میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر بارہ کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان، صوبائی وزراء، اعلیٰ سول و عسکری حکام، علاقائی عمائدین، خواتین اور نوجوانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھانے اور فاتحہ خوانی سے ہوا۔ گورنر مندوخیل نے اس موقع پر کہا کہ سابق وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان کیلئے 25 فیصد منافع حاصل کرنا ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے خطے میں خوشحالی کے دروازے کھلیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض علاقوں میں بدامنی اور شورش ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل بھی سیاسی طریقے سے ممکن ہے۔ اس حوالے سے مشاورت اور مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رکھنا چاہئیں تاکہ مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پشتون اور بلوچ اقوام کی روایات اس امر کا ثبوت ہیں کہ اجتماعی مشاورت کے ذریعے ہم آج بھی دیرپا حل نکال سکتے ہیں۔
گورنر نے خبردار کیا کہ اگر ہم عوامی رائے اور اجتماعی مسائل کو نظر انداز کریں گے تو سیاسی اور سماجی سطح پر مزید پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غربت، مہنگائی اور بیروزگاری نے صوبے کے نوجوانوں کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے اور ان مسائل کے حل کیلئے فوری اور سنجیدہ فیصلے وقت کی ضرورت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اب بھی روشن امکانات موجود ہیں کہ ہم موجودہ بحرانوں کا ایسا سیاسی حل تلاش کر سکتے ہیں جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔ گورنر مندوخیل کا کہنا تھا کہ آج کے جرگے سے ہمیں موقع ملا ہے کہ ہم مقامی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے ایک مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دیں جو امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب پیش قدمی میں معاون ثابت ہو۔













Leave a Reply