وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم اور علم کے فروغ کا سفر اب ایک نئے، عملی اور نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کی ایک شاندار مثال گوادر میں “ظہور شاہ ہاشمی ڈیجیٹل لائبریری” کا قیام ہے۔ یہ لائبریری صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ فکری، سائنسی اور سماجی ترقی کی ایک جامع بنیاد ہے، جو آنے والی نسلوں کو علم، تحقیق اور شعور کی روشنی فراہم کرے گی۔
وزیر اعلیٰ نے بدھ کے روز اس تاریخی لائبریری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ صرف ایک انفراسٹرکچر نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو عوام، ضلعی انتظامیہ اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے حقیقت بنا۔ اس تقریب میں رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمٰن، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمن اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جدید ترین لائبریری پاکستان کی بہترین لائبریریوں میں سے ایک ہے، جو مکمل طور پر مخیر حضرات کے تعاون سے تعمیر کی گئی ہے۔ تقریباً چھ کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے اس منصوبے میں تین لاکھ سے زائد ڈیجیٹل کتب، ہزاروں چھپی ہوئی کتابیں، خواتین، بچوں اور بزرگوں کے لیے الگ ہالز، مقابلہ جاتی امتحانات کے امیدواروں کے لیے مخصوص سہولیات، مکمل ایئر کنڈیشننگ اور سولر سسٹم کی مدد سے 24 گھنٹے بجلی کی دستیابی شامل ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ گوادر کے طلبہ کو لیپ ٹاپس اور امتحانات کی تیاری کے لیے درکار کتب فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ تعلیمی میدان میں مزید آگے بڑھ سکیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے خطاب میں کہا کہ وہ تعلیم، ہنر، امن اور ترقی کی راہ اپنائیں کیونکہ یہی بلوچستان اور پاکستان کا روشن مستقبل ہے۔ انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ کچھ عناصر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن حکومت ہر اس نوجوان کے ساتھ کھڑی ہو گی جو علم و شعور کی راہ اختیار کرے گا۔
اس موقع پر “ظہور شاہ ہاشمی ڈیجیٹل لائبریری” کی کامیاب تکمیل پر ڈپٹی کمشنر حمود الرحمن اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ دیگر اضلاع میں بھی ایسے ہی منصوبے شروع کیے جائیں تاکہ مطالعے، تحقیق اور علم دوستی کی فضا کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت بلوچستان نے پہلی بار محکمہ تعلیم اور صحت میں بھرتیاں مکمل طور پر میرٹ پر کی ہیں، 3200 سے زائد بند اسکول دوبارہ کھولے گئے ہیں اور کئی علاقوں میں پہلی بار ڈاکٹرز کی تعیناتی ممکن بنائی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ “بینظیر بھٹو اسکالرشپ پروگرام” کے ذریعے ہر ضلع سے میٹرک کے بعد اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو سولہ سالہ تعلیمی اخراجات کی مکمل کفالت دی جائے گی، جبکہ نوجوانوں کو دنیا کی 200 بہترین جامعات میں پی ایچ ڈی اسکالرشپ دی جا رہی ہے۔
یہ لائبریری نہ صرف گوادر بلکہ پورے بلوچستان کے لیے ایک رول ماڈل ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ جب ریاست، معاشرہ اور مقامی انتظامیہ ایک مقصد کے لیے متحد ہوں تو ترقی، علم اور شعور کے دروازے خود بخود کھل جاتے ہیں۔













Leave a Reply