وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں نایاب جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ اور استحکام کے لیے فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں محکمہ جنگلات کے حکام نے ان اہم قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر بریفنگ دی۔
وزیر اعلیٰ نے نایاب جنگلی حیات کے بے دردی سے شکار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محکمے کو ہدایت دی کہ فوری اور سخت قانونی کارروائی کی جائے اور غیر قانونی شکار میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کمیونٹی مانیٹرنگ کے لیے قبائلی عمائدین اور مقامی قبائل پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ہر سطح پر ان قدرتی وسائل کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
انہوں نے وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی سے انٹرنیشنل فنڈز فار پروٹیکٹڈ ایریاز کی بحالی کے لیے بات چیت کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری فاریسٹ نور احمد پرکانی نے بتایا کہ تکتو میں غیر قانونی شکار میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں، اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے یقین دلایا کہ بلوچستان کے جنگلات اور جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے کیونکہ یہ قومی اثاثہ ہیں اور ان کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔













Leave a Reply