سرداری سیاست کا چہرہ: عوام کے نام پر اقتدار، اور اقتدار کے نام پر عیش و عشرت

زبان پر ریاست کے خلاف زہر، اور جیب میں ریاست کا خزانہ؟ جلسوں میں بلند ہوتے نعرے — “پنجاب نے لوٹ لیا!”، “بلوچستان کے وسائل چھین لیے گئے!” — سننے میں جذباتی اور عوامی لگتے ہیں، مگر جب حقیقت کا پردہ چاک ہوتا ہے تو تصویر کچھ اور نظر آتی ہے۔ دبئی میں محل، کراچی میں ہوٹلز، اور شو رومز میں کھڑی چمچماتی گاڑیاں؟ جنہیں چلانے کا ایندھن بیرونِ ملک کے بینک اکاؤنٹس سے آتا ہے۔ دوسری جانب وڈھ کا غریب بچہ روٹی کے ایک نوالے کو ترس رہا ہے۔

یہی تو ہے سرداری سیاست کا اصل چہرہ۔ خود کھاؤ، دوسروں کو بھوکا رکھو۔ جب ریاست پوچھے تو شور مچاؤ کہ ظلم ہو رہا ہے، اور جب سوال کرنے والے نوجوان حق مانگیں تو ان کے ذہنوں میں علیحدگی کے خواب بونا شروع کر دو۔ قوم پرستی کے نام پر حاصل ہونے والا ووٹ، اقتدار کی راہداریوں تک پہنچاتا ہے، اور پھر وہی اقتدار عوام کے حق سے زیادہ ذاتی عیاشی کی نذر ہو جاتا ہے۔

اگر سردار صاحب کی جدوجہد واقعی اتنی ہی خالص ہے جتنی وہ دکھاتے ہیں، تو پھر دبئی کے محلات، سوئس اکاؤنٹس، اور قیمتی اثاثے قوم کے نام کیوں نہیں کر دیتے؟ کیوں نہیں ان کا حق ان کے اپنے لوگوں کو دیتے؟ کیوں نہیں بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم، روزگار، اور بہتر زندگی کی ضمانت دی جاتی؟

لانگ مارچ کا ڈرامہ بھی عوام نے مسترد کر دیا۔ وڈھ سے چلتن تک خالی کرسیاں، مایوس چہرے اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ بلوچ قوم اب باشعور ہو چکی ہے۔ اب وہ گیدڑ سیاست کا شکار نہیں بنے گی۔ اب وہ جان چکی ہے کہ جو نام ان کے حقوق کے نعرے لگا کر اقتدار میں آئے، وہی ان کے خوابوں کے سب سے بڑے دشمن بنے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *