پی کے کے کی جنگ کا اختتام: علیحدگی پسندی کا انجام اور ریاست کی حقیقت

پی کے کے (کردستان ورکرز پارٹی)، جو چار دہائیوں سے ترکی کے خلاف مسلح جدوجہد میں مصروف تھی، نے بالآخر ہتھیار ڈال دیے اور جنگ کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔ یہ مسلح تصادم 1984 میں شروع ہوا اور اس دوران چالیس ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ ترکی کو 400 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس دوران لاکھوں خاندان متاثر ہوئے اور ہزاروں افراد نے اپنی جانیں ایک ایسی جدوجہد میں قربان کیں جس کا انجام صرف تباہی اور بربادی نکلا۔

اس جنگ کے دوران مختلف علیحدگی پسند گروہوں نے بھی اس بیانیے کو فروغ دیا۔ بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں جیسے بی ایل اے اور بی ایل ایف، کرد علیحدگی پسندوں سے یکجہتی کے نعرے لگاتی رہیں۔ “کرد اور بلوچ بھائی بھائی” جیسے نعرے سوشل میڈیا پر عام ہوتے گئے، اور یورپ میں ان گروہوں کے مشترکہ مظاہرے بھی دیکھنے کو ملے۔ مجید بریگیڈ کی خواتین خودکش حملہ آوروں کی تربیت میں بھی پی کے کے کے طریقہ کار سے متاثر ہوئیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ان تنظیموں نے ایک دوسرے سے راستہ اور حکمت عملی سیکھنے کی کوشش کی۔

لیکن آج، جب پی کے کے جیسی ایک پرانی اور منظم تنظیم ہتھیار ڈال چکی ہے، تو یہ ان تمام گروہوں کے لیے ایک کھلا پیغام ہے جو اب بھی ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے کو آزادی کی راہ سمجھتے ہیں۔ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا نہ تو انصاف لاتا ہے اور نہ ہی آزادی، بلکہ اس کا نتیجہ صرف خونریزی، تباہی اور پچھتاوے کی صورت میں نکلتا ہے۔

آخرکار، وہی قوم اور افراد جو ریاست کے خلاف لڑتے ہیں، وقت کے ساتھ اسی ریاست کی طرف پلٹتے ہیں۔ کیونکہ قومیں اپنی مٹی، اپنے اداروں اور اپنے عوام کے بغیر قائم نہیں رہ سکتیں۔ علیحدگی کی راہ کبھی بھی پائیدار حل نہیں بن سکتی، اور پی کے کے کی حالیہ پسپائی اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست کے ساتھ مل کر ہی کوئی پائیدار اور قابل عمل مستقبل تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *