بلوچستان اسمبلی میں سرفراز بگٹی کا خطاب اور بولان ٹرین حملے پر بریفنگ

وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بلوچستان اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جعفر ایکسپریس ہائی جیک اور بولان ٹرین حملے کے بعد کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے گولیاں کھا کر 68 یرغمالیوں کو بحفاظت بازیاب کرایا جبکہ جوابی کارروائی میں 50 کے قریب دہشتگردوں کو جہنم واصل کردیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام دہشتگرد اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں اور حکومت عوام کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لے گی۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ عوام اور فورسز کی شہادتوں کی تفصیلات مسلسل موصول ہو رہی ہیں اور حکومت اس حوالے سے مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فیصلے ٹوئٹر سردار یا تھانہ سردار نہیں کریں گے بلکہ بلوچستان اسمبلی اور عوامی نمائندے کریں گے۔ اگر کسی کے پاس کوئی بہتر تجویز ہے یا کوئی مذاکرات کی بات کرنا چاہتا ہے تو وزیر اعظم کل کوئٹہ آ رہے ہیں، وہ اپنی تجاویز لے آئے، حکومت ہر مثبت بات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔

الیکشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان انتخابات میں مینجمنٹ ضرور ہوئی ہوگی، مگر زیادہ تر وہی لوگ جیتے ہیں جن کے خاندان ہمیشہ سے انتخابی کامیابی حاصل کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دودا خان کا بیٹا بشیر زیب کو “صاحب” کہہ رہا ہے، جو کہ ایک حیران کن اور افسوسناک صورتحال ہے۔

سرفراز بگٹی نے دوٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ جو بھی بندوق اٹھائے گا، ریاست اس کا ہر صورت قلع قمع کرے گی، جبکہ عام بلوچ کو ریاست گلے لگائے گی اور اس کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد ایک انچ زمین پر بھی قبضہ نہیں کر سکتے اور ہمیشہ چھٹی پر جانے والے فوجیوں کو نشانہ بناتے ہیں، جو کہ بزدلی کی علامت ہے، کیونکہ چھٹی پر جانے والے اہلکار کسی جنگ کا حصہ نہیں ہوتے۔ انہوں نے چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہمت ہے تو چھاؤنیوں میں آ کر مقابلہ کریں، عام شہریوں اور چھٹی پر موجود فوجیوں پر حملے کرنا دہشتگردوں کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی اور ریاست ہر ممکن اقدامات اٹھائے گی تاکہ عوام کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ساتھ دیں اور دہشتگردوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *