بلوچستان کے وکلاء کی قربانیاں ناقابل فراموش، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے: وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے وکلاء نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں وہ ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان وکلاء نے نہ صرف ریاست کا ساتھ دیا بلکہ اپنے جانوں کا نذرانہ دے کر ثابت کیا کہ وہ قانون کی بالادستی اور امن کے داعی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تاریخ سے سیکھ کر نئی نسل کی رہنمائی کرنا ہوگی اور آزادی کی لاحاصل جنگ کے بیانیے کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہوگا۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی ابتدا عدالتی نظام کو نشانہ بنا کر کی گئی، جس کی ایک مثال جسٹس نواز مری کی شہادت ہے، اور اس کے بعد ان کے ورثاء نے نواب خیر بخش مری اور ان کے بیٹوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی۔ آج کوئٹہ میں تعلیمی ادارے اور عدالتیں فعال ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی پسپا ہو چکی ہے اور ریاست نے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض وکلاء ریاست مخالف تنظیموں کی نمائندگی کرتے ہیں، جو آئین پاکستان اور ریاستی نظریات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف موساد، را اور دیگر غیر ملکی ایجنسیاں مسلسل سازشیں کرتی رہی ہیں، اور بدقسمتی سے ان میں بعض مقامی افراد بھی استعمال ہوئے۔

وزیر اعلیٰ نے وکلاء کی فلاح کے لیے متعدد اعلانات کیے جن میں پانچ کروڑ روپے کی گرانٹ، ہیلتھ انشورنس، خواتین وکلاء کے لیے پنک وینز اور سکوٹیز، شٹل سروس بسیں اور وکلاء ہاؤسنگ اسکیم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری رکھے ہوئے ہے اور بدعنوانی اور بیڈ گورننس کے خاتمے کے ذریعے دہشت گردی کی جڑ کاٹنے کے لیے پرعزم ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *