وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت محکمہ مائنز اینڈ منرلز اور کان مالکان کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں کان کنی کے دوران پیش آنے والے حادثات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر خزانہ و معدنی ترقی میر شعیب نوشیروانی، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، اسپیشل سیکرٹری مائنز محمد فاروق، ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان سمیت دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی، جبکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباداللہ خان نے بھی خصوصی طور پر اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کوئلے کی کانوں میں ہونے والے پے درپے حادثات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور محکمہ مائنز کی معائنہ ٹیموں کی کارکردگی پر سخت عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امن و امان کا مسئلہ معائنہ ٹیموں کی ناکامی کا جواز نہیں بن سکتا۔ انہوں نے سختی سے ہدایت کی کہ جو ملازمین اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام ہیں، وہ استعفیٰ دے دیں۔ وزیر اعلیٰ نے حادثات کے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دینے کی ہدایت کی اور ایک ہی کمپنی میں ایک سال کے دوران پیش آنے والے دوسرے حادثے کو غیر ذمہ داری کا نتیجہ قرار دیا۔
سنجدی کان حادثے کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے نامزد ملزمان کی فوری گرفتاری، انسپکٹر کی معطلی اور تحقیقات کو سی ایم آئی ٹی منتقل کرنے کے احکامات دیے۔ انہوں نے دنیا کے جدید مائننگ ماڈیول کی حفاظتی تدابیر اختیار کرنے اور کانوں کی باقاعدہ انسپکشن کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ وزیر اعلیٰ نے ریسکیو اینڈ ٹریننگ ونگ کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے لیے محکمہ مائنز اینڈ منرلز کو جامع پروپوزل تیار کرنے کی ہدایت کی اور یقین دہانی کرائی کہ مطلوبہ وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان نے حادثات میں جاں بحق ہونے والے مزدوروں کے معاوضے کی جلد ادائیگی کو یقینی بنانے اور تمام کان مزدوروں کی متعلقہ اتھارٹی میں رجسٹریشن کو لازمی قرار دینے کی بھی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی اقدامات اور مزدوروں کے حقوق کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔













Leave a Reply