بلوچستان کی بہادر بیٹیوں کے خلاف مخصوص ٹولے کی منفی مہم

اس وقت ایک مخصوص ٹولہ بلوچستان کی پشتون بیٹی، پہلی خاتون ایس ایچ او اور شہید کی بیٹی زرغونہ ترین پر ماہرنگ اور اس کے ساتھیوں کے مبینہ تشدد کا بے بنیاد الزام لگا کر ایک پشتون بہن کی کردار کشی میں مصروف ہے۔ یہ مخصوص ٹولہ جو ہمیشہ اپنے مفادات کے لیے جھوٹے بیانیے گھڑتا ہے، آج بھی اسی مکروہ روش پر گامزن ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک صرف ان کی اپنی ماہرنگ ہی بلوچستان کی بیٹی ہے، جبکہ بلوچستان کی دیگر بلوچ اور پشتون بیٹیوں کو بے عزت کرنا اور ان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے پھیلانا ان کا معمول بن چکا ہے۔ ان کے نزدیک کسی اور عورت کی عزت اور وقار کی کوئی اہمیت نہیں، ان کا مقصد صرف اپنی پسندیدہ شخصیات کو مظلوم اور دوسروں کو بدنام کرنا ہے۔

اس مخصوص دو فیصد گروہ نے ماضی میں بھی بلوچستان کی خواتین کی جس بے حرمتی اور کردار کشی کا بازار گرم کیا، اس کی مثالیں تاریخ میں کم ہی ملتی ہیں۔ کیا صرف ان چند افراد کی بہنوں اور بیٹیوں کی عزت ہے؟ کیا باقی 98 فیصد بلوچ و پشتون بیٹیاں عزت کی حقدار نہیں؟ اس گروہ نے بارہا بلوچستان کی محنتی، باعزت اور ترقی کرنے والی خواتین کو نشانہ بنایا ہے۔ اگر زرغونہ ترین ہو یا مینا مجید، جب بھی کوئی عورت بلوچستان میں اپنی محنت، قابلیت اور لگن کے ساتھ آگے بڑھنے لگتی ہے، یہ ٹولہ اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیتا ہے اور اس کی کردار کشی کے لیے تمام حدود پار کر دیتا ہے۔

زرغونہ ترین شہید کی بیٹی ہے، جو نہ صرف ایک بہادر خاتون پولیس افسر ہے بلکہ بلوچستان کی ان بیٹیوں میں شامل ہے جو اپنے خاندان اور اپنے علاقے کا نام روشن کر رہی ہیں۔ ایک طرف تو یہ ٹولہ خواتین کے حقوق کی بات کرتا ہے، لیکن جب کوئی عورت واقعی میدان میں آتی ہے تو یہی لوگ سب سے پہلے اس کے خلاف گھٹیا مہم چلاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف منافقت کی بدترین مثال ہے بلکہ بلوچستان کی محنتی خواتین کے حوصلے توڑنے کی ایک گھناؤنی کوشش بھی ہے۔ بلوچستان کی بیٹیوں کو اپنے حق کے لیے اور اپنی عزت و وقار کے لیے اس منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا ہوگا تاکہ یہ مخصوص ٹولہ اپنی سازشوں میں ناکام ہو جائے اور بلوچستان کی خواتین ترقی اور کامیابی کی راہ پر گامزن رہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *