پولیس کے پاس ہتھیار نہیں تھے تو 3 لوگ کیسے مرے، معمہ حل

حالیہ احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا ہے جس نے اعتراف جرم بھی کر لیا ہے۔ مشترکہ آپریشن میں سیکورٹی فورسز اور پولیس نے سریاب روڈ پر ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مارا، جہاں سے اس شخص کو حراست میں لیا گیا جو بی وائی سی کے احتجاج کے دوران تین افراد کے قتل میں ملوث پایا گیا۔ ملزم نے اپنے اعترافی بیان میں انکشاف کیا کہ بی وائی سی کی مرکزی قیادت نے اسے احتجاج کے دوران فائرنگ کرنے کی ہدایت دی تھی تاکہ کشیدگی کو ہوا دی جا سکے اور ہلاک شدگان کی لاشوں کو اپنے ایجنڈے کے لیے استعمال کر کے ریاستی اداروں پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم کے بیان کو قانونی تقاضوں کے تحت میڈیا کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ عوام کو سچائی سے آگاہ کیا جا سکے اور اس حوالے سے پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کا خاتمہ کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز بی وائی سی کے احتجاج کے دوران تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر ریاستی اداروں کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا تھا، تاہم حالیہ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ فائرنگ مظاہرین کے اندر سے کی گئی تھی۔

یہ پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی ہے جب کچھ حلقے مسلسل یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے پرامن احتجاج کو سبوتاژ کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔ تاہم، اب سامنے آنے والے شواہد ایک مختلف کہانی بیان کر رہے ہیں، جو اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ پولیس اور دیگر ادارے اس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اس منصوبہ بندی میں اور کون کون ملوث تھا اور کیا یہ محض ایک فرد کا عمل تھا یا اس کے پیچھے کوئی منظم سازش کارفرما تھی۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *