بلوچستان میں نوجوانوں کے لیے مثبت اقدامات اور حکومت کی ترجیحات

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ماضی میں بیڈ گورننس کی وجہ سے نوجوان ریاست سے دور ہوئے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے منفی تاثر کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ گورننس کے مسائل کو براہ راست ریاست سے جوڑنا مناسب نہیں، بلکہ ان مسائل کو حل کر کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ حکومت نے اس حوالے سے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں، جن میں تاریخ میں پہلی بار بلوچستان کی یوتھ پالیسی کی منظوری شامل ہے۔

یوتھ پالیسی کا مقصد نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور کھیلوں کے ذریعے مثبت سمت میں لے کر جانا ہے، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بھرپور طریقے سے استعمال کر سکیں۔ اسی تسلسل میں حکومت نے جامع اسپورٹس کیلنڈر بھی متعارف کرایا ہے، جس کے تحت بلوچستان بھر میں مختلف کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ ان سرگرمیوں کا مقصد نوجوانوں کو صحت مند تفریح فراہم کرنا اور انہیں قومی و بین الاقوامی سطح پر مواقع دینا ہے۔

اسپورٹس کے فروغ کے لیے حکومت بلوچستان نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور ڈی ایچ اے کے درمیان ایک اہم معاہدہ بھی کرایا ہے، جس کے تحت بلوچستان کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو قومی سطح پر اپنی صلاحیتیں منوانے کے مواقع میسر آئیں گے۔ اس معاہدے سے صوبے کے نوجوان کرکٹرز کو جدید تربیت، بہترین سہولیات اور قومی لیگز میں شمولیت کا موقع ملے گا، جو ان کے کیریئر کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ کھیل نہ صرف جسمانی صحت کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہ معاشرتی ہم آہنگی، نظم و ضبط اور مثبت سوچ کے فروغ کا بھی بہترین ذریعہ ہیں۔ حکومت اسپورٹس کی مکمل سرپرستی کرے گی تاکہ بلوچستان کے نوجوان قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوا سکیں۔ ان تمام اقدامات کا بنیادی مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو احساسِ شمولیت دینا اور انہیں ترقی کے مواقع فراہم کرنا ہے تاکہ وہ مایوسی کے بجائے ایک روشن مستقبل کی جانب بڑھ سکیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *