بلوچستان میں خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود کے لیے محکمہ ترقی نسواں اور جیل خانہ جات کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس معاہدے کی قیادت صوبائی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کی، جس کا مقصد جیلوں میں قید خواتین کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
معاہدے کے تحت خواتین قیدیوں کو قانونی معاونت، نفسیاتی مدد اور صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کی مشکلات کو کم کیا جا سکے اور انہیں ایک بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، جیلوں میں قید خواتین کے لیے ہنر سکھانے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ وہ قید کی مدت کے دوران کسی کارآمد مہارت کو اپنا سکیں اور رہائی کے بعد معاشرے میں باعزت زندگی گزار سکیں۔
ڈاکٹر ربابہ بلیدی کے مطابق، محکمہ ترقی نسواں اور جیل خانہ جات خواتین قیدیوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ اس حوالے سے بلوچستان کی تمام جیلوں میں خواتین قیدیوں کے لیے خصوصی مراکز کے قیام پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جہاں انہیں بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ تربیت اور قانونی معاونت فراہم کی جائے گی۔
ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ یہ مفاہمتی یادداشت خواتین قیدیوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان خواتین کی ترقی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور یہ معاہدہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔













Leave a Reply