صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں تھیلیسیمیا سمیت دیگر موزی امراض کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس سلسلے میں موجودہ قانون پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے تھیلیسیمیا کے عالمی دن کے موقع پر بلوچستان بلڈ ٹرانسفیوژن اتھارٹی کے زیر اہتمام ایک آگاہی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں صحت کے مسائل پر بھرپور توجہ دی جا رہی ہے اور حکومت اس ضمن میں پائیدار حل کی جانب گامزن ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے بتایا کہ تھیلیسیمیا کی مؤثر روک تھام کے لیے سکریننگ ٹیسٹ کو فروغ دیا جائے گا تاکہ اس بیماری سے مستقبل میں بچاؤ ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے تمام ادارے متحرک ہیں اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی اعلان کیا کہ صحت کے مسائل کے دیرپا حل کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک ایڈوائزری کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو صحت پالیسیوں اور اقدامات کی رہنمائی کرے گی۔
بخت محمد کاکڑ نے علماء کرام سے اپیل کی کہ وہ اپنے خطبات میں تھیلیسیمیا اور دیگر مہلک بیماریوں کے حوالے سے شعور و آگاہی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں تاکہ معاشرے میں بیماریوں سے بچاؤ کی سوچ کو فروغ ملے۔ تقریب سے سیکرٹری صحت مجیب پانییزئی، چیف ٹیکنیکل ایکسپرٹ ڈاکٹر ندیم صمد، ڈاکٹر افضل زرکون، ڈاکٹر شفیق کوسو، اسلم ناصر اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور تھیلیسیمیا کی روک تھام میں حکومت اور معاشرے کے مشترکہ کردار کو اجاگر کیا۔













Leave a Reply