بلوچستان میں دہشت گردی: عوام کو گمراہ کرنے کی سازش

بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر ایک منظم حکمت عملی کا حصہ نظر آتی ہے، جہاں معروف علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ حملے دراصل عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور ریاستی اداروں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کی ایک سازش ہیں۔ حالیہ واقعے میں تربت کے علاقے کوشقلات میں بلوچی زبان کے معروف گلوکار استاد عارف بلوچ کے گھر پر فائرنگ کی گئی، جو کہ آزادیِ اظہار اور ثقافتی سرگرمیوں کو دبانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ اس سے قبل، ساچان اسکول کے پرنسپل شریف ذاکر پر بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جو کہ بلوچستان میں تعلیمی ترقی کے دشمنوں کی کارستانی معلوم ہوتی ہے۔

یہ حملے محض انفرادی شخصیات پر حملے نہیں بلکہ ایک پورے معاشرتی اور ثقافتی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش ہیں۔ دہشت گرد تنظیمیں ہمیشہ سے اس تاک میں رہتی ہیں کہ عوامی شخصیات کو نشانہ بنا کر خوف کا ماحول پیدا کریں اور سادہ لوح عوام کو گمراہ کرکے انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کریں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ علم، ثقافت اور حق کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔ بلوچستان کے عوام ہمیشہ سے ان سازشوں کو ناکام بناتے آئے ہیں اور آئندہ بھی اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے عزائم کو شکست دیں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *