بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی عزم

بلوچستان حکومت کے وزراء اور ترجمان نے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ملک دشمن عناصر کی منظم سازش قرار دیا ہے۔ حکومتی نمائندوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے ہر واقعے سے سختی سے نمٹا جائے گا اور پاکستان کے خلاف ہونے والی تمام تر سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا۔ چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی میر ظہور بلیدی نے جعفر ایکسپریس حملے کو بربریت کی بدترین مثال قرار دیا، جس میں بے گناہ مسافروں کو یرغمال بنایا گیا اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے گوادر میں مسافر بس سے معصوم شہریوں کو اتار کر شہید کرنے کے واقعے کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا۔

میر ظہور بلیدی نے کہا کہ گزشتہ روز کے دھماکے میں معروف ڈاکٹر مہر اللہ ترین کو نشانہ بنایا گیا، جو ایک پیشہ ور اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار شخصیت تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی دشمن عناصر کو کسی صورت برداشت نہیں لیکن ایسے عناصر کو بخشا نہیں جائے گا۔ پریس کانفرنس میں صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے کہا کہ بلوچستان کو دہشت گردی کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے مگر حکومت شہریوں کے ساتھ مل کر اس لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ بعض علاقوں میں محرومیاں اور بیڈ گورننس کے مسائل موجود ہیں لیکن حکومت ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے اس موقع پر کہا کہ حکومت مسائل کے حل کے لیے ڈائیلاگ پر یقین رکھتی ہے اور وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اپوزیشن کو بھی مذاکرات کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف بلوچستان حکومت کا واضح اور دوٹوک موقف ہے، لسانیت اور شناخت کے نام پر قتل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومتی نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں اور کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *