وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے میں ساتویں زراعت شماری کا باضابطہ افتتاح کردیا۔ یہ زراعت شماری جی آئی ایس ٹیکنالوجی کے استعمال سے کی جا رہی ہے، جو مصدقہ اور معیاری اعدادوشمار جمع کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان ملک کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور زراعت کے شعبے کو ترقی دینے کے لیے درست اور قابل اعتماد اعدادوشمار کا حصول انتہائی ضروری ہے۔
زراعت اور لائیو اسٹاک پاکستان اور بلوچستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان شعبوں کی ترقی کے بغیر معیشت کو مستحکم کرنا ممکن نہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے صوبائی محکموں کو ہدایت دی کہ وہ ادارہ شماریات پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ درست اور کثیرالجہتی اعدادوشمار مرتب کیے جا سکیں۔ ان اعدادوشمار کی تصدیق کے عمل میں مقامی سطح پر صوبائی محکمے بھی شامل ہوں گے تاکہ کسی بھی غیر مصدقہ ڈیٹا کو زراعت شماری کا حصہ نہ بنایا جا سکے۔
میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ ساتویں زراعت شماری سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کو صوبائی حکومت کے ساتھ شئیر کیا جائے گا، اور اس معلومات کو ڈیٹا پر مبنی زرعی پالیسیوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ حکومت بلوچستان اور ادارہ شماریات پاکستان باہمی تعاون کے ذریعے ایسی پالیسیاں تشکیل دیں گے جو زراعت کے شعبے میں ترقی اور غذائی تحفظ کو یقینی بنائیں گی۔
وزیر اعلیٰ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ زراعت شماری ملک میں زرعی ترقی کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس سے مستقبل میں غذائی تحفظ کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ تقریب میں صوبائی وزیر زراعت میر علی حسن زہری، دیگر صوبائی وزراء، مشیران، اراکین اسمبلی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان اور ادارہ پاکستان شماریات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ یہ تقریب زراعت کے شعبے میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اور بلوچستان کے عوام کے لیے ترقی کی راہیں ہموار کرے گی۔













Leave a Reply