وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے رمضان المبارک کے دوران غریب، نادار اور سفید پوش طبقات کے لیے “رمضان فوڈ پیکج” کا آغاز کر دیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت کو مستحق افراد کی مشکلات کا بخوبی احساس ہے، اور اسی لیے ایک ماہ قبل فیصلہ کیا گیا تھا کہ رمضان میں ضرورت مند خاندانوں کو راشن فراہم کیا جائے گا۔ تاہم، شاہراہوں کی بندش کے باعث اس ریلیف پروگرام میں کچھ تاخیر ہوئی، لیکن حکومت کی کوشش ہے کہ جلد از جلد یہ راشن مستحق افراد کی دہلیز پر پہنچے۔ وزیر اعلیٰ نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت دی کہ ہر فرد کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے راشن کی تقسیم کے دوران کسی قسم کی فوٹوگرافی نہ کی جائے۔
رمضان فوڈ پیکج کی افتتاحی تقریب پی ڈی ایم اے آفس میں منعقد ہوئی، جہاں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے جہانزیب خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 250,000 مستحق افراد کے لیے راشن پروگرام کا آغاز کیا گیا ہے۔ 48 کلو گرام راشن بیگ، جو سات افراد کی پندرہ دن کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگا، مستحق خاندانوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ اشیائے خوردونوش کے معیار کا خاص خیال رکھا گیا ہے، اور میڈیا سمیت کوئی بھی فرد اس کا جائزہ لے سکتا ہے۔ بلوچستان کے اندرونی اضلاع میں یہ ریلیف پیکج ٹرین اور سڑک کے ذریعے بھیجا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس سے مستفید ہو سکیں۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے چیف سیکریٹری بلوچستان، ڈی جی پی ڈی ایم اے اور ان کی پوری ٹیم کو اس اہم اقدام پر مبارکباد دی اور واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح مستحق افراد کو ان کے گھروں تک راشن پہنچانا ہے۔ اس سلسلے میں تمام اراکینِ اسمبلی کی مشاورت سے راشن تقسیم کیا جائے گا تاکہ حقدار کو اس کا حق مل سکے۔ وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ یہ راشن بغیر کسی فوٹو سیشن کے غریبوں تک پہنچنا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ قومی شاہراہوں کی بندش کے باعث دور دراز علاقوں میں راشن پہنچانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، لیکن حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ ٹرین اور دیگر ذرائع سے جلد از جلد راشن تمام اضلاع میں پہنچایا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عدالتی اور حکومتی احکامات کے باوجود قومی شاہراہیں بند کی جاتی ہیں، جس سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر سکے، انہیں عہدوں سے ہٹا دیا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ بعض عناصر خواتین اور بچوں کو آگے کر کے شاہراہیں بند کرتے ہیں، جس سے انتظامیہ کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں، لیکن حکومت صورتحال پر قابو پانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے گوادر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت سڑکیں کھلوانا اور اپنی رٹ قائم رکھنا جانتی ہے، لیکن صبر و تحمل کے ساتھ مسائل حل کرنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ حکومت زیادہ دیر تک شہریوں کو مشکلات میں نہیں چھوڑ سکتی۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے عمر ایوب کے اس بیان کو مسترد کیا کہ بلوچستان کے بعض اضلاع نو گو ایریاز بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی ضلع ہے تو اس کا نام سامنے لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سابقہ حکومت میں علیحدگی پسند کمانڈرز کو رہا کیا گیا، جو بعد میں دہشت گردی کیمپوں میں شامل ہو گئے۔
وزیر اعلیٰ نے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلح گروہ رات کی تاریکی میں قومی شاہراہوں پر حملے کرتے ہیں، لیکن زیادہ دیر تک ٹھہر نہیں پاتے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز انتہائی مشکل حالات میں کام کر رہی ہیں، جہاں دوست اور دشمن میں فرق کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف مؤثر حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔
مسنگ پرسنز کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے اور اس پر غیر ضروری پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر بندوق کے زور پر پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں، وہی غیر قانونی طریقوں سے حکومتی دباؤ بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں عملی اقدامات کرنے کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔
اختتام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ حکومت عوام کے تحفظ اور ان کے حقوق کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور کسی بھی غیر قانونی عمل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر بخت محمد کاکڑ، پارلیمانی سیکرٹریز حاجی ولی محمد نورزئی، میر عبدالصمد گورگیج، ملک نعیم خان بازئی، ڈی جی پی ڈی ایم اے جہانزیب خان، اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔













Leave a Reply