بلوچستان میں متبادل توانائی کے منصوبے: آف گریڈ اسٹیشنز اور سولر سسٹمز کی شفاف تقسیم

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت بلوچستان ترقیاتی بجٹ میں آف گریڈ اسٹیشنز قائم کرنے جا رہی ہے تاکہ ان علاقوں میں بجلی فراہم کی جا سکے جہاں روایتی گرڈ اسٹیشن موجود نہیں ہیں۔ اس اقدام کا مقصد صوبے کے دور دراز اور بجلی سے محروم علاقوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ ان آف گریڈ اسٹیشنز کا آغاز نوکنڈی، بلیدہ، سوئی، شیرانی اور ماشکیل جیسے علاقوں سے کیا جائے گا، جہاں بجلی کی فراہمی ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔

حکومت بلوچستان متبادل توانائی کے منصوبوں پر بھی کام کر رہی ہے تاکہ توانائی کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق، سی پیک کے تحت چینی حکومت کے تعاون سے ہوم سولر سسٹمز فراہم کیے گئے ہیں، جن کی شفاف تقسیم اور کم لاگت میں تنصیب کو یقینی بنایا گیا ہے۔ یہ منصوبہ ان گھروں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو روایتی بجلی کے نیٹ ورک سے منسلک نہیں ہیں۔

مزید برآں، زمینداروں کے لیے 50 ارب روپے کے زرعی سولرائزیشن منصوبے پر کام جاری ہے، جس کے تحت زراعت کے شعبے میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سولر سسٹمز نصب کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، وزیر اعلیٰ نے کیسکو کی ناقص کارکردگی کو اس منصوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا اور خبردار کیا کہ اگر تاخیر کا سلسلہ جاری رہا تو حکومت خود زمینداروں کے ساتھ مل کر سولر سسٹمز نصب کرے گی۔

حکومت بلوچستان نے عوامی فلاحی منصوبوں کی تیز تکمیل پر زور دیا ہے اور اس حوالے سے سولر سسٹمز کی شفاف تقسیم کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے چینی حکومت اور فرینڈز آف چائنہ فورم کے چیئرمین بایزید خان کاسی کی خدمات کو بھی سراہا، جو بلوچستان میں توانائی کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *