بلوچستان میں بی وائی سی کی جانب سے قومی شاہراہ بند کیے جانے پر حکومت بلوچستان کے ترجمان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شاہراہ کی بندش کے باعث کراچی اور دیگر شہروں سے آنے والے مسافر اذیت میں مبتلا ہوئے، جبکہ پولیس نے راستہ کھلوانے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی۔
ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور تشدد کیا، جس کے نتیجے میں لیڈی پولیس کانسٹیبل سمیت دس افراد زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ بی وائی سی نے کس کی میتیں سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا، اس کی تصدیق ہونا باقی ہے، تاہم حکومت نے واضح کیا کہ جب تک متوفیان کی لاشیں اسپتال لاکر ضابطے کی کارروائی مکمل نہیں ہوتی، وجوہات کا تعین ممکن نہیں۔
حکومت بلوچستان کے مطابق امن و امان میں خلل ڈالنے اور افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ قانون کو ہاتھ میں لینے اور نقصِ امن پیدا کرنے کی کوششوں پر حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی۔ حکومت نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کے جان و مال کا تحفظ اس کی آئینی ذمہ داری ہے، جسے ہر صورت پورا کیا جائے گا۔













Leave a Reply