وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی جانب سے 27 فروری 2025 کو منعقدہ لوکل گورنمنٹ کانفرنس میں کیے گئے اعلانات پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ مقامی حکومتوں کو مزید اختیارات دینے اور بلدیاتی نمائندوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں ان کی تنخواہوں کے تعین، فنڈز کی بروقت فراہمی اور ٹیکس وصولی کے اختیارات شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر چیئرمین، وائس چیئرمین اور دیگر بلدیاتی نمائندوں کی تنخواہوں اور اختیارات سے متعلق سمری طلب کر لی گئی ہے، تاکہ انہیں ان کے کردار کے مطابق مراعات اور وسائل فراہم کیے جا سکیں۔ اس حوالے سے پرنسپل سیکریٹری بلوچستان بابر خان کی جانب سے جاری مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کے مالی معاملات کو مستحکم بنانے کے لیے قانون سازی پر بھی کام جاری ہے، جس کے تحت مقامی حکومتوں کو اپنے مالی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے مواقع میسر آئیں گے۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے ان اقدامات کا مقصد مقامی حکومتوں کو مزید خودمختار اور فعال بنانا ہے، تاکہ وہ اپنے علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کو مؤثر طریقے سے مکمل کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی ہے کہ بلدیاتی نظام کی بہتری کے لیے تمام اقدامات فوری اور مؤثر انداز میں مکمل کیے جائیں، تاکہ عوام کو نچلی سطح پر زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں اور گورننس کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔













Leave a Reply