بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی منصوبوں (IFRAP) کی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم اجلاس وفاقی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پروجیکٹ ڈائریکٹر بلوچستان اسفندیار نے منصوبے کی موجودہ صورتحال، درپیش مشکلات اور حائل رکاوٹوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی منصوبوں کی پیش رفت تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، لہٰذا ان منصوبوں کو فوری اور مؤثر انداز میں مکمل کیا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ منصوبہ بلوچستان حکومت کے حوالے کر دیا جائے تو اس پر تیز رفتاری سے کام کیا جا سکتا ہے کیونکہ صوبائی حکومت زمینی حقائق سے بہتر طور پر آگاہ ہے اور فوری فیصلے کر سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اجلاس میں “ری اسٹرکچرنگ” کی تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام وسائل صرف گھروں کی تعمیر پر صرف کر دیے گئے تو سیلاب سے تباہ شدہ تعلیمی ادارے، اسپتال اور سڑکیں نظر انداز ہو جائیں گی۔ ان کے مطابق وسائل کے غیر متوازن استعمال سے عوام میں منفی تاثر پیدا ہو سکتا ہے اور بحالی منصوبے کے بنیادی مقاصد متاثر ہو سکتے ہیں۔
اجلاس میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ورلڈ بینک کے بحالی منصوبے کے تحت بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے انٹرن شپ پروگرام کو “چیف منسٹر یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام” سے مربوط کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ پروگرام صوبائی یوتھ پروگرام کے ساتھ جوڑا جائے تو اس کے مثبت اور دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں، جس سے نوجوانوں کو ہنر سیکھنے کے مواقع میسر آئیں گے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان تجاویز پر غور کے لیے جلد ایک علیحدہ اجلاس بلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کے معاونتی بحالی منصوبوں پر حکومت بلوچستان کے تحفظات کو دور کیا جائے گا تاکہ صوبے کو زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل ہو سکیں۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر احسن اقبال نے کچھی کینال سائٹ کے دورے کی خواہش ظاہر کی جس پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نے انہیں سوئی کے دورے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کر لی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر پلاننگ و ترقیات میر ظہور احمد بلیدی، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات حافظ عبدالباسط، پرنسپل سیکرٹری بابر خان، سیکرٹری آبپاشی حافظ عبدالماجد، اور ایڈیشنل سیکرٹری چیف منسٹر سیکریٹریٹ محمد فریدون نے بھی شرکت کی۔
اس اجلاس کے دوران جو تجاویز اور اقدامات زیر غور آئے، ان سے واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے مؤثر اور تیز رفتار اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی شمولیت اور زمینی سطح پر براہ راست نگرانی سے نہ صرف منصوبوں کی تکمیل کی رفتار بڑھے گی بلکہ ان کے معیار میں بھی بہتری آئے گی۔













Leave a Reply