بلوچستان اسمبلی نے گزشتہ دنوں زرعی آمدنی پر ٹیکس لگانے کے لیے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت زرعی آمدنی کی مختلف حدوں پر مختلف شرحوں پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس قانون کے مطابق اگر کسی کسان کی سالانہ زرعی آمدنی چھ لاکھ روپے تک ہو تو اس پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔ چھ لاکھ روپے سے لے کر بارہ لاکھ روپے تک کی آمدنی پر 15 فیصد ٹیکس لگے گا۔ بارہ لاکھ روپے سے لے کر سولہ لاکھ روپے تک کی آمدنی پر 90 ہزار روپے کا مقررہ ٹیکس لگایا جائے گا، جبکہ سولہ لاکھ روپے سے لے کر تین لاکھ بیس ہزار روپے تک کی آمدنی پر 1 لاکھ 70 ہزار روپے ٹیکس عائد ہوگا۔ اس کے بعد تین لاکھ بیس ہزار روپے سے لے کر پانچ لاکھ 60 ہزار روپے تک کی آمدنی پر 6 لاکھ 50 ہزار روپے ٹیکس لگے گا، اور پانچ لاکھ 60 ہزار روپے سے زیادہ کی آمدنی پر 40 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ بلوچستان اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد بھی منظور کی جس میں مانگوں چار حملے کی شدید مذمت کی گئی۔ اس حملے میں 18 سکیورٹی اہلکار شہید ہوگئے تھے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ بلوچستان کے عوام سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنائیں گے۔
بلوچستان میں سکیورٹی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے امن کے قیام کے لیے تمام متعلقہ حلقوں سے بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ دہشت گردوں کو اپنے انتھائی طریقوں سے کامیاب ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔













Leave a Reply